’منموہن سنگھ کی خاموشی ان کی کمزوری‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 ستمبر 2012 ,‭ 13:23 GMT 18:23 PST
منموہن سنگھ

اس سے قبل ٹائم میگزین نے منموہن سنگھ کو ' انڈراچیور' یعنی ناکام لیڈر کہا تھا

بھارت کے خاموش طبع وزیر اعظم منموہن سنگھ کی’خاموشی‘ کی گونج اب ملک کے باہر بھی سنائی دینے لگی ہے۔

منموہن سنگھ شاذ و نادر ہی کسی مسئلہ پر اپنی رائے ظاہر کرتے ہیں اور کوئلے کی کانوں کے الاٹمنٹ پر تنازعہ کے پس منظر میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے کہا ہے کہ ان کی خاموشی اب ان کی کمزوری بن گئی ہے اور تاثر یہ ہے کہ وہ ایک انتہائی بدعنوان حکومت کی سربراہی کر رہے ہیں۔

اخبار نے لکھا ہے کہ ’منموہن سنگھ کی شبیہہ اب پوری طرح بدل چکی ہے۔۔۔پہلے وہ ایک قابل احترام اور انتہائی سادگی میں یقین رکھنے والے دانشور اور ٹیکنوکریٹ مانے جاتے تھے لیکن ۔۔۔اب وہ ایک ایسے غیر مؤثر افسر شاہ کے طور پر دیکھے جانے لگے ہیں جو ایک انتہائی بدعنوان حکومت کی سربراہی کر رہے ہیں‘۔

اگرچہ اخبار نے اپنے مضمون میں میں جو کچھ کہا ہے، کم و بیش وہی باتیں کافی عرصے سے حزب اختلاف کی جانب سے بھی کہی جاتی رہی ہیں لیکن وفاقی وزیر اطلاعات اور نشریات امبیکا سونی نے کہا کہ یہ رپورٹ بے بنیاد ہے اور اس طرح کی مضامین کو ’ ہم غیر معیاری صحافت (یلو جرنلزم) مانتے ہیں۔‘

وزیر اعظم کے دفتر نے اخبار سے اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے لیکن مضمون لکھنے والے صحافی سائمن ڈینر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے تجزیہ پر قائم ہیں اورانہوں نے کوئی ایسی بات نہیں لکھی ہے’ جو پہلے بھارتی ذرائع ابلاغ اور سیاسی مباحثوں میں نہ کہی جاچکی ہو‘۔

اس سے پہلے ٹائم اور اکانامسٹ جریدوں نے بھی اپنے مضامین میں وزیر اعظم کے کام کاج کے طریقے اور ان کی اقتصادی پالیسیوں پر سخت تنقید کی تھی۔

وزیر اعظم خود کئی مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ حزب اختلاف کے رہنماؤں لال کرشن اڈوانی اور سشما سوارج کی طرح لفظوں کی جادو گری نہیں جانتے لیکن کوئلے کی کانوں کے الاٹمنٹ کے سوال پر حزب اختلاف نے انہیں براہ راست نشانہ بناتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے اور سیاسی مبصرین کے مطابق اس کے باوجود وزیر اعظم نے اس جارحانہ انداز میں اپنا دفاع نہیں کیا ہے جیسے ایک سرکردہ سیاسی رہنما کو کرنا چاہیے تھا۔

بدعنوانی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ایک تحریری بیان پڑھا جس میں ایک شعر بھی شامل تھا کہ ’ہزاروں جوابوں سے اچھی ہے میری خاموشی، ناجانے کتنے سوالوں کی آبرو رکھے‘۔

کوئلے کی کانوں کے الاٹمنٹ میں سرکاری خزانے کو ایک لاکھ چھیاسی کروڑ روپے کے نقصان کا الزام ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے تقریباً تین ہفتے سے پارلیمان کی کارروائی روک رکھی ہے۔

حزب اختلاف کا بھی کہنا ہے کہ واشنگٹن پوسٹ نے جو لکھا وہ پہلے سے سب کو معلوم ہے۔ بی جے پی کے ترجمان مختار عباس نقوی نے کہا کہ ’ سب کو بدعنوانی کی خبر ہے اور سب اس بارے میں بات کر رہے ہیں۔ کسی کو یہ اندازہ نہیں ہوگا کہ وزیر اعظم کی ’ایماندار’ شبیہہ اس طرح برباد ہوگی۔‘

شو سینا کے لیڈر سنجے راؤت نے کہا کہ’ واشنگٹن پوسٹ ہی نہیں سب یہ کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم اور موجودہ حکومت غیر مؤثر ہیں۔‘

سیاسی مبصرین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ حکمراں یو پی اے کے دوسرے دور اقتدار میں بڑے بڑے گھپلوں اور ملک کی لڑکھڑاتی ہوئی معیشت کی وجہ سے وزیر اعظم کی ساکھ کو زبردست نقصان پہنچا ہے حالانکہ سب یہ مانتے ہیں کہ ذاتی طور پر ان کا دامن بے داغ ہے۔

سنجے بارو یو پی اے کے پہلے دور اقتدار میں وزیر اعظم کے میڈیا صلاح کار تھے۔ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’پہلے منموہن سنگھ کا سب احترام کرتے تھے۔۔۔اب وہ تضحیک کا موضوع بن گئے ہیں‘

واشنگٹن پوسٹ نے وزیر اعظم کی خاموشی کے بارے کچھ لطیفے بھی اپنی رپورٹ میں شامل کیے ہیں’ اجلاسوں میں شرکاء سے مذاق میں یہ کہا جاتا ہے کہ اپنے فون ’منموہن سنگھ موڈ میں کرلیں (یعنی سائلنٹ موڈ پر کرلیں)!۔۔۔جبکہ ایک لطیفے میں ایک ڈینٹسٹ وزیر اعظم سےکہہ رہا ہے’ براہ کرم، کم سے کم میرے کلینک میں تو اپنا منہہ کھولئے‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔