’بنگلہ دیشی مسلمانوں کو آسام سے جانا ہوگا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 ستمبر 2012 ,‭ 08:17 GMT 13:17 PST
آسام کی فوٹو

آسام میں نسلی تشدد کے واقعات کے بعد وہاں ڈر کا ماحول ہے

آسام کے بوڈو اکثریت والے علاقوں پر حکومت کرنے والی بوڈولینڈ علاقائی کاؤنسل کے سربراہ ہاگرما موہلیاری کا کہنا ہے وہ بنگلہ دیشی مسلمانوں کو بوڈو اکثریت والے علاقوں میں نہیں رہنے دیں گے۔

آسام کے وزیر اعلی ترون گوگوئی بھلے ہی یہ کہتے ہیں کہ ریاست کے کوکراجھار اور اس کے قریبی علاقوں میں نسلی تشدد کا سبب غربت اور وسائل کی کمی ہے لیکن ہاگرما موہلیاری واضح الفاظ میں کہتے ہیں ’تشدد کی وجہ بنگلہ دیشی مسلمان ہیں‘۔

ہاگرما موہلیاری کو نا پسند کرنے والے انہیں آسام کا ’مودی‘ کہتے ہیں وہیں ان کے چاہنے والے انہیں ’چیف کہہ کر پکارتے ہیں‘۔ کوکراجھار کے بوڈو قبائل ان کے ساتھ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہاگرما موہلیاری اتنے اعتماد سے یہ کہتے ہیں کہ وہ بنگلہ دیشی مسلمانوں کو نہیں رہنے دیں گے۔

سنہ دوہزار تین تک بھارت مخالف علیٰحدگی پسند تنظیم بوڈو لبریشن ٹائیگر یا بی ایل ٹی کے سربراہ رہ چکے ہاگرما نے اپنی ساتھیوں کے ساتھ دوہزار تین میں ہتھیار ڈال دیے تھے اور امن مذاکرات میں حصہ لینے کے بعد بوڈو پیپلز فرنٹ یا بی ایف کی شروعات کی تھی۔

بی پی ایف ان دنوں آسام اور مرکز میں یو پے اے کی اتحادی ہے اور اس کے ریاستی اسمبلی میں بارہ رکن اسمبلی اور ایک وزیر ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا ایک رکن ممبر پارلیمان بھی ہیں۔

ہاگرما موہلیاری کہتے ہیں ’ہم تو بنگلہ دیشیوں کو رہنے نہیں دیں گے۔ مسلمانوں کو چھوڑ کر خودمختار بوڈو علاقے میں رہنے والے سبھی لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ بنگلہ دیشیوں کو یہاں سے جانا ہی ہوگا‘۔

حالانکہ ہاگرما کا کہنا ہے کہ وہ تشدد کا راستہ اختیار نہیں کریں گے تاہم وہ بنگلہ دیشی مسلمانوں کو اپنے چار اضلاع میں نہیں رہنے دیں گے۔

کوکراجھار میں واقع امدادی کیمپوں میں رہنے والے مسلمانوں کا کہنا ہے ہاگرما کی سابق علیٰحدگی پسند تنظيم بی ایل ٹی نے ان پر حملے کیے اور ان کے گھر جلائے۔

بی پی ایف کے ایک ایم ایل اے کمار برہما کے خلاف فسادات میں حصہ لینے کے الزام میں ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی ہے۔

ریاست آسام میں بوڈو قبائیلیوں اور اقلیتی مسلمانوں کے درمیان گزشتہ ایک ماہ سے فرقہ وارنہ تشدد جاری ہیں جس میں اب تک تقریبا نوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

چند روز قبل الفا باغیوں نے آسام سے باہر مقیم آسامی باشندوں پر ’مظالم‘ نہ رکنے کی صورت میں ریاست میں رہائش پذیر غیر آسامی آبادی پر حملوں کی دھمکی دی تھی تب سے کئی بار حملے ہوچکے ہیں۔

لڑائی کے باعث تقریباً چار لاکھ افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر چلےگئے ہیں اور خوف کے سبب بیشتر افراد نے اب بھی کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

آسام کے مختلف علاقوں میں مقامی بوڈو قبائلیوں اور مسلمانوں کے درمیان برسوں سے کشیدگی پائی جاتی ہے اور دو نوں برادریوں میں کئی بار فسادات ہو چکے ہیں۔

فسادات سے متاثرہ بیشتر علاقوں میں فوج تعینات ہے۔

تشدد سے سب سے زیادہ کوکراجھار، چرانگ اور دھبری اضلاع متاثر ہوئے ہیں جہاں مختلف علاقوں میں جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔