’مسلمانوں نے ہمارے گھر جلائے، ہم نے ان کے‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 8 ستمبر 2012 ,‭ 11:41 GMT 16:41 PST
آسام امدادی کیمپ

آسام کے امدادی کیمپوں میں ابھی بھی لوگ موجود ہیں۔

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام کے كوكراجھار علاقے میں یوں تو امن و امان بحال ہو رہا ہے لیکن فسادات کی بری یادیں پھر سے سب کچھ برباد کر سکتی ہیں۔

آسام میں خودمختار بوڈو علاقے کے تین اضلاع میں ہونے والے فسادات نے اس علاقے کے سماجی تانے بانے کو تار تار کر دیا ہے۔

ریاست میں مسلمانوں کی حمایتی سمجھی جانے والی جماعت آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ یا اے آئی يو ڈي ایف کے جنرل سیکریٹری اور رکن اسمبلی حاجی بشیر احمد كاظمی کا دعویٰ ہے کہ بوڈو لوگ الگ ریاست چاہتے ہیں۔ اور وہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک کہ بوڈو علاقوں میں ان کی اکثریت نہیں ہوجاتی۔ اس لیے وہ مسلمانوں کو وہاں سے بھگا کر ذات برادری کے توازن کو اپنے حق میں کرنا چاہتے ہیں۔

كوكراجھار کے پاس دوتوما کے ایک پناہ گزین کیمپ میں ایک بوڈو جنگجو نے نام نا بتانے کی شرط پر بات چیت کے دوران تسلیم کیا کہ مسلمانوں نے ہمارا گھر جلایا اور ہم نے بھی بھاگنے سے پہلے ان کے گھروں کو آگ لگا دی۔

مہلک ہتھیار

"اگر یہاں کہ دیگر ذاتیں ہماری مدد کر دیں تو ہم بوڈو لوگوں کو بالکل ختم کر دیں گے. وہ ہیں کتنے؟ بس ان کے پاس مہلک ہتھیار ہیں"

دوسری جانب بلاسي پاڑا کے ایک ٹیکسی چلانے والے مسلمان لڑکے نے بات چیت کے دوران کہا کہ اگر یہاں کی دیگر ذاتیں ہماری مدد کر دیں تو ہم بوڈو لوگوں کو بالکل ختم کر دیں گے اور وہ ہیں کتنے؟ بس ان کے پاس مہلک ہتھیار ہیں۔

آسام میں غیر قانونی طور پر آباد بنگلہ دیشیوں کی تعداد پر جتنے منہ اتنی باتیں ہیں۔

بی جے پی کا کہنا ہے کہ آسام میں آنے والے وقتوں میں درانداز کنگ میكر ہوں گے۔ بوڈو خواتین کے حق و انصاف کے فورم کی صدر انجلی دئی ماری کے مطابق ایسے لوگوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

انجلی کے بھائی ایک ممنوعہ چھاپہ مار تنظیم رنجن دئی ماری نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈولینڈ کے مسلح دھڑے کے سربراہ ہیں اور ایک ان کی تنظیم ایک آزاد بوڈو لینڈ کے لیے لڑ رہی ہے۔

حاجی بشیر احمد كاظمی

'بوڈو لوگ الگ ریاست چاہتے ہیں، اور وہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک کہ بوڈو علاقوں میں ان کی اکثریت نہیں ہوجاتی۔ اس لیے وہ مسلمانوں کو وہاں سے بھگا کر ذات برادری کے توازن کو اپنے حق میں کرنا چاہتے ہیں

رنجن کو بھارتی خفیہ ایجنسی را نے بنگلہ دیش سے حال ہی میں گرفتار کیا تھا اور آسام پولیس کے مطابق ان کی تنظیم کے جنگجوؤں کے پاس کافی تعداد میں خودکار ہتھیار ہیں۔

بوڈو اور مسلمان دونوں ہی غیر قانونی طور پر آنے والے بنگلہ دیشیوں کی بات کو تسلیم کرتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کی تعداد یہاں سب سے زیادہ متنازع ہے۔

اے آئی یو ڈی ایف کے جنرل سکریٹری اور رکن اسمبلی حاجی بشیر احمد كاظمی کہتے ہیں کہ ریاست میں بنگلہ دیشیوں کی اتنی تعداد نہیں ہے جتنے دعوے کیے جاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ریاست میں جتنے بھی بنگلہ دیشی ہیں انہیں یہاں سے نکال دیا جائے لیکن عام مسلمانوں کو پریشان نہ کیا جائے۔

آسام کے وزیر اعلیٰ ترون کمار گوگوئی کہتے ہیں کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں ڈھائی لاکھ سے کم بنگلہ دیشی ہیں۔

گوگوئي کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ تعداد اس سے کچھ کم یا زیادہ ہو لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ جو جماعتیں بنگلہ دیشیوں کے بارے میں شور مچا رہی ہیں وہ ان کی شناخت کرنے کے سرکاری کام میں مدد نہیں کر رہی ہیں۔ بی جے پی اور اے آئی یو ڈی ایف صرف اپنے سیاسی مفادات کے لیے ماحول کو خراب کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔