مسلمانوں کے درمیان دہشت گرد؟

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 8 ستمبر 2012 ,‭ 07:00 GMT 12:00 PST
بھارت مسلمان

ایک اندازے کے مطابق ہر بم دھماکے کے بعد مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔

کئی برس پہلے ممبئی میں لوکل ٹرینوں پر بم حملے کے بعد ممئبي پولیس نے بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی گرفتاریاں شروع کی تھیں۔ مسلم بستیوں میں خوف و ہراس کا عالم تھا اور ہر طرف بے جینی پھیلی ہوئی تھی ۔ شہر کے مسلم علماء، اہم شخصیات اور دانشوروں کی ایک کانفرنس ہوئی ۔اس میں بم حملے کے شبہے میں مسلمانوں کی اندھا دھندر گرفتاریوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اس کانفرنس میں بھیونڈی کے ایک نوجوان مذہبی عالم نے بم دھماکے میں تقریـباً ڈیڑھ سو افراد کی ہلاکت کے پس منظر میں شہر کے صبر وتحمل کی ستائش کرتے ہوئے مسلمانوں سے کہا تھا کہ مسلمان اب یہ دیکھیں کہ کہیں ان کے قدموں کے نیچے سے زمین کھسک تو نہیں رہی ہے۔

اس واقعے کے بعد بھارت کے مختلف شہروں میں سیکڑوں بم دھماکے ہو چکے ہیں اور ان واقعات میں ہزاروں نہیں تو کم ازکم سینکڑوں مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا اور ان پر دہشت گردی کے مقدمے چل رہے ہیں۔ عا م طور پر ہر دھماکے کے لیے کسی نہ کسی معروف یا غیر معروف مسلم تنطیموں پر ہی الزام لگتا رہا ہے۔

اس کے بر عکس ملک میں بہت کم مسلم ایسے ہوں گے جو یہ ماننے کے لیے تیار ہیں کہ بم دھماکوں میں مسلمانوں کا کوئی ہاتھ ہے۔ بیشتر مسلمانوں کا یہی خیال ہے کہ یہ بھارتی مسلمانوں کو پست کرنے کی حکومت اور ہندوئیت کے علمبرداروں کی ایک سازش ہے اور اس سوچ میں معاشرے کے ہر طبقے کے لو گ شامل ہیں۔

مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں

بھارت کے مختلف شہروں میں سیکڑوں بم دھماکے ہو چکے ہیں اور ان واقعات میں ہزاروں نہیں تو کم ازکم سینکڑوں مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا اور ان پر دہشت گردی کے مقدمے چل رہے ہیں۔ عا م طور پر ہر دھماکے کے لیے کسی نہ کسی معروف یا غیر معروف مسلم تنطیموں پر ہی الزام لگتا رہا ہے۔

پچھلے دو ہفتوں میں کرناٹک ، مہاراشٹر اور آندھراپردیش کی پولیس نے ایک مشترکہ کاروائی میں تقریـباً بیس مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے اور سازش کرنے کے شبہے میں گرفتار کیا ہے۔ان میں سے بیشتر کا تعلق کرناٹک ریاست سے ہے ۔ حراست میں لیے گئے لو گوں میں کئی ایم ڈی ڈاکٹر، ڈی آر ڈی او کے انجینئر، ایم بی اے اور دوسرے شعبوں کے پڑھے لکھے نوجوان شامل ہیں۔

اچانک کسی بم دھماکے یا کشیدگی کے بغیر ان نوجوانوں کی گرفتاریوں نے ایک بار پھر مسلمانوں کے ذہنوں میں انتشار اور بے یقینی پیدا کر دی ہے۔

اس سے قبل اسی طرح کی گرفتاریاں چند مہینے قبل بہار کے بعض علاقوں سے کی گئی تھیں اور اس سے پہلے دلی کے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے بعد اعظم گڑھ میں گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

دہشت گردی کے حوالے سے مسلمانوں کا رویہ ہمیشہ انکار اور تردید کا رہا ہے۔ اس کا ایک سبب یہ رہا ہے کہ ملک کے جمہوری نظام کے سبب مذہب کے انتہا پسند عناصر کبھی بھارت کے مسلمانوں کے اجتماعی شعور کومتاثر نہیں کر سکے۔ملک کی مذہبی تنظیمیں اور شخصیات عمومی طور پر قدامت پسند اور اکثر فرسودہ سماجی اور اقتصادی تصورات کے باوجود سخت گیر مذہبیت کو فروغ دینے سے گریزاں رہی ہیں اسی لیے نفسیاتی طور پر کوئی یہ یقین نہیں کر پاتا کہ آخر مسلمان کس طرح ایسے بہیمانہ واقعات کا مرتکب ہو سکتا ہے۔

خود تفتیشی اداروں کا رویہ اور طریقۂ کار بھی مسلمانوں کے شک و شبہات کو مستحکم کرنے کا ایک اہم سبب رہا ہے۔ پولیس اور خفیہ اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت کی کمی اور غیر حساس طریقۂ کار سے بہت سے بے قصور نوجوانوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے تباہ ہو گئی ہیں۔

کئی معاملات میں ہندو دہشت گرد تنطیمیں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھیں۔ ان میں سے کئی کی گرفتاریوں اور دھماکوں کے معاملات حل ہوجانے کے باوجود اب بھی درجنوں مسلم نوجوان برسوں سے قید میں ہیں جو بھارت کی تفتیشی نظام کی غیر جانبداری کے بارے میں سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔

ان حقائق کے باوجود بھارت کے مسلمان اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ پاکستان سے لے کر افغانستان اور عراق تک اور چیچنیا سے لے کر نائجیریا تک مسلمانوں میں ایسے انتہا پسند عناصر پیدا ہو رہے ہیں جو ہر مسئلے کو صرف اپنے نقطۂ نطر سے دیکھنا چاہتے ہیں اور جن کے پاس ہر اختلاف کا جواب تشدد ہے ایسے ہی عناصر بھارتی مسلمانوں کے ذہن و دماغ پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ بہت سے بھارتی مسلمان ان کے خطرناک دام میں پھنس بھی گئے ہوں۔

تاریح کی اس اہم منزل پر اسی لیے بھیونڈی کے اس نوجوان مذہبی عالم کا وہ بیان شدت سے یاد آتا ہے ’مسلمان یہ دیکھیں کہ کہیں ان کے قدموں کے نیچے سے زمین کھسک تو نہیں رہی ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔