بھارت: اجرت مانگنے پر ہاتھ قلم

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 ستمبر 2012 ,‭ 12:11 GMT 17:11 PST
الیاری

لکڑ ہارے الیاری کا بایاں ہاتھ نہیں رہا

بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے گڑھوا ضلع میں جرائم پیشہ افراد نے مزدوری مانگنے پر ایک لکڑہارے کا بایاں ہاتھ کاٹ دیا۔

لکڑہارے کو زخمی حالت میں ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

لکڑ ہارے کا نام الیار بتایا جاتا ہے جو علاقے کی ایک غیر قانونی دیسی شراب کی فیکٹری میں کام کرنے کے بعد مزدوری مانگنے گئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے کے کچھ جرائم پیشہ عناصر شراب کی اس غیر قانونی فیکٹری کو چلا رہے تھے اور الیار فیکڑی کے لیے ہر روز جنگل سے لکڑی کاٹ کر لاتے اور فروخت کرتے تھے۔

فیکٹری مالکان نے کچھ روز سے انہیں لکڑی کاٹنے کے لیے پیسے نہیں دیے تھے جس کے لیے وہ ہر روز فیکٹری جاتے تاہم فیکٹری کے لوگ انہیں ڈانٹ کر بھگا دیتے۔

گڑھوا کے پولیس سربراہ مائیکل راج نے بی بی سی کو بتایا کہ معاوضہ صرف دو سو روپے تھا جس کے لیے شراب کی فیکڑی چلانے والوں نے الیار کا ہاتھ کاٹ ڈالا۔

پولیس نے اس معاملے میں ابھی تک رام سنگھ یادو نامی ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جبکہ بھٹی میں کام کرنے والے اس کے دوسرے ساتھی فرار بتائے جاتے ہیں۔

ہسپتال میں داخل الیار نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ جب وہ پیسہ مانگنے گئے تو انہیں پکڑ لیا گيا اور پٹائی کی گئی پھر اچانک ایک شخص نے تیز دھار آلے سے ان کا بایاں ہاتھ کاٹ دیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فرار شدہ ملزمان کو جلد ہی پکڑ لیا جائیگا۔

بھارت میں طویل تحریک کے بعد جبری مزدوری کو تو غیر قانونی قرار دیدیا گیا ہے لیکن مزدورں کا برسوں سے جاری استحصال اب بھی برقرار ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔