بھینس کے ساتھ سیکس، پانچ برس قید کی سزا

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 ستمبر 2012 ,‭ 09:28 GMT 14:28 PST

راجستھان کی اس عدالت میں بھینس کو بھی پیش کیا گيا تھا

بھارت کی ریاست راجستھان کے سیکر ضلع میں ایک مقامی عدالت نے بھینس کے ساتھ سیکس کرنے کے جرم میں ایک شخص کو پانچ برس قید کی سزا سنائی ہے۔

یہ واقعہ کھنڈیلا تھانے کی حدود میں پیش آیا۔ عدالت نے گاؤں کے رہائشی چھبیس سالہ بنواری لال پر پانچ ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ اگر بنواری لال پانچ ہزار روپے کا جرمانہ ادا نہ کریں تو ان کی سزا میں چھ ماہ کا مزید اضافہ کر دیا جائے۔

عدالت کے فیصلے کے بعد بنواری لال نے خود کو بے قصور بتاتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

عدالت نے دستور ہند کی دفعہ 377 کے تحت یہ سزا سنائی ہے۔

اس دفعہ کے تحت غیر فطری جنسی عمل کرنے پر سزا سنائی جا سکتی ہے۔

سرکاری وکیل کے مطابق سوا لال نے چار اپریل دو ہزار سات کو پولیس کو یہ اطلاع دی تھی کہ بنواری نے اس کی بھینس کے ساتھ جنسی فعل کیا لیکن بنواری لال نے اس سے انکار کیا تھا۔

پولیس نے اس معاملے کی تفتیش کی، جس سے معلوم ہوا کہ بنواری لال نے بھینس کے ساتھ سیکس کیا تھا اور عدالت میں اپنی رپورٹ پیش کی۔

لیکن اس مقدمے کا فیصلہ آتے آتے پانچ برس کا وقت لگ گیا۔ منگل کو مجسٹریٹ نے فریقین کی دلیل سننے کے بعد بنواری کو مجرم قرار دیتے ہوئے فیصلہ سنایا۔

بنواری کے خلاف مقدمہ دائر کرنے والے فریق نے اس سلسلے میں بارہ گواہ پیش کیے۔ گواہوں میں بھینس کا مالک بھی شامل تھا۔

سرکاری وکیل مہیش جین کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں بھینس کی میڈیکل رپورٹ بھی پیش کی گئی جو اس واقعے کو ثابت کرنے کے لیے بہت اہم تھی۔

لیکن بنواری نے ان تمام الزامات کو مسترد کیا۔ وکیلِ دفاع نے کہا کہ اس کے مؤکل کو پرانی رنجش کا بدلہ لینے کے لیے پھنسایا گیا ہے۔

لیکن عدالت میں وہ ان تمام باتوں کو ثابت نہیں کر پائے۔ ابھی بنواری کے پاس اعلیٰ عدالت میں اپیل کرنے کا حق ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔