کشمیر: ’مبینہ پاکستانی ایجنٹ‘ گرفتار

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 ستمبر 2012 ,‭ 09:01 GMT 14:01 PST
کشمیر کی پولیس

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والا شخص ایک مسافر بردار طیارہ کو اغوا کرنے کے سلسلے میں پولیس کو مطلوب تھا

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے جنوب مشرقی ضلع کشتواڑ میں مقامی پولیس نے معراج الدین نامی ایک کشمیری شہری کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ معراج الدین داند عرف جاوید دراصل پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ایجنٹ ہیں۔

یہ گرفتاری بھارت اور پاکستان کے درمیان ویزا قوانین میں نرمی کے اقدامات پر اتفاق کے کئی معاہدوں کے طے پانے کے چند روز بعد ہی عمل میں لائی گئی ہے۔

پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ معراج الدین چودہ سال قبل بھارت کے ایک مسافر بردار طیارے، پرواز نمبر آئی سی آٹھ سو چودہ کے اغوا کرنے کے سلسلے میں بھی پولیس مطلوب تھے۔ اس طیارے کو اغوا کر کے افغانستان لے جایا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق کئی سال تک نیپال میں قیام کے بعد معراج الدین کشمیر آئے اور یہاں کے کشتواڑ ضلع میں مسلح حملوں کی منصوبہ بندی کرنے لگے۔

پولیس ذرائع کے مطابق معراج الدین شمالی کشمیر کے سوپور قصبے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ اُنیس سو نواسی میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی ہند مخالف عسکری تحریک میں شامل ہوگئے۔

پولیس کا دعویٰ

معراج الدین شمالی کشمیر کے سوپور قصبے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ اُنیس سو نواسی میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی ہند مخالف عسکری تحریک میں شامل ہوگئے۔

ایک اہلکار نے بتایا ’(تحریک میں شمولیت کے) پہلے سال میں وہ گرفتار ہوئے اور چند سال کی قید کے بعد رہا کر دیے گئے، تاہم وہ دوبارہ پاکستان گئے جہاں انہوں نے آئی ایس آئی کے لئے باقاعدہ کام کرنا شروع کیا اور نیپال میں قیام کیا‘۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ نیپال میں قیام کے دوران معراج نے انڈرورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کے ساتھ بھی مراسم بڑھائے تھے۔

واضح رہے پاکستان میں گزشتہ بائیس سال سے مقیم سابق عسکریت پسندوں کو کشمیر واپسی کے لئے نیپال کے راستے ہی محفوظ راہداری فراہم کی گئی ہے۔

پچھلے چھہ ماہ کے دوران اس راستے پانچ سو سے زائد سابق عسکریت پسند پاکستانی بیویوں اور بچوں کے ہمراہ نیپال کے راستے ہی کشمیر واپس لوٹے ہیں۔

طیارہ اغوا کے علاوہ معراج کے بارے میں پولیس کا دعویٰ ہے کہ اُنیس سو چھیانوے میں دلّی کے لاجپت نگر علاقے میں ہوئے بم دھماکوں میں بھی ان کا ہاتھ ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔