بھارت: جوہری پلانٹ کے خلاف احتجاج

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 ستمبر 2012 ,‭ 13:57 GMT 18:57 PST
 کوڈن کولم جوہری بجلی گھر کے خلاف احتجاج

کوڈن کولم میں جوہری پلانٹ کے خلاف تحریک ایک سال سے جاری ہے

بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں مقامی باشندوں نے کوڈن کولم جوہری بجلی گھر کے خلاف اپنی ناراضی ظاہر کرنے کے لیے سمندر میں انسانی زنجیر بنائی ہے۔

مظاہرین چاہتے ہیں کہ بجلی گھر میں یورینیم کی شکل میں ایندھن لوڈ کرنے کا عمل روک دیا جائے جس کے لیے انہوں نےسپریم کورٹ سےبھی رجوع کیا تھا لیکن عدالت نےکوئی عارضی حکم دینے سے انکار کرتے ہوئے آئندہ جمعرات کو معاملے کی دوبارہ سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی نوعیت کا ایک احتجاج ملک کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں بھی جاری ہے جہاں مقامی لوگ ایک ڈیم کی تعمیر کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں اور مستقل دریائے نرمدا کے پانی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

جوہری بجلی گھر کے خلاف احتجاج کے بعد علاقے میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ بجلی گھر میں ایندھن کی راڈ لوڈ نہ کی جائیں، تحریک کے رہنماؤں کی گرفتاری کا منصوبہ ترک کیا جائے، جو لوگ پہلے گرفتار کیے جا چکے ہیں انہیں رہا کیا جائے اور تحریک کے دوران جن لوگوں کو مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے انہیں مناسب معاوضہ ادا کیا جائے۔

یہ تحریک گزشتہ تقریباً ایک سال سے جاری ہے اور کئی مرتبہ پر تشدد شکل اختیار کر چکی ہے۔ گزشتہ پیر کو بھی تشدد کے واقعات کے بعد پولیس کی فائرنگ میں ایک ماہی گیر ہلاک ہوگیا تھا۔ وفاقی حکومت کئی مرتبہ کہہ چکی ہے کہ اس تحریک میں غیرملکی غیر سرکاری اداروں کا ہاتھ ہے۔

دلی میں کیس کی سماعت کے بعد سرکردہ وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ عدالت نے کوئی عبوری حکم جاری کرنے سے اس لیے انکار کیا کیونکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ایندھن لوڈ کرنے کا عمل پورا ہونے کے بعد بھی بجلی گھر شروع ہونے میں کم از کم دو مہینے لگیں گے۔

یہ بجلی گھر روس کے تعاون سے تعمیر کیا گیا ہے۔ ایک روسی اہلکار نے چندہ ماہ قبل کہا تھا کہ تحریک کو وہ طاقتیں ہوا دے رہی ہیں جو بجلی گھر کا کانٹریکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی تھیں۔

تحریک کی رہنمائی ایس پی ادے کمار کر رہے ہیں جو گزشتہ پیر کے تشدد کے بعد سے سامنے نہیں آئے ہیں۔ تشدد کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ وہ خود کو پولیس کے سپرد کر دیں گے۔

مظاہرین کی فی الحال کوشش یہ ہے کہ بجلی گھر میں ایندھن کے راڈ لوڈ کرنے کا عمل کسی بھی قیمت پر روکا جائے اور اسی وجہ سے انہوں نے بجلی گھر کا محاصرہ کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔

کوڈن کولم میں روس کے تعاون سے ایک ہزار میگاواٹ کے دو ریکٹر لگائے جا رہے ہیں۔ لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بجلی گھر پورے علاقے کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے اور اس سے ان کا ذریعہ معاش بھی ختم ہوجائے گا۔ اس علاقے میں رہنے والے بیشتر لوگ ماہی گیر ہیں۔

حکومت نے مقامی لوگوں کے خدشات دور کرنے کے لیے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جن کا کہنا تھا کہ بجلی گھر میں جدید ترین ٹکنالوجی استعمال کی گئی ہے اور ٹھوس حفاظتی تدابیر کی گئی ہیں۔

لیکن بجلی کی وزارت کے سابق سیکریٹری اے سارما کا کہنا ہے کہ جوہری بجلی گھروں سے لاحق خطرات کا جائزہ لینے میں حکومت نے شفاف انداز اختیار نہیں کیا ہے اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں تمام بجلی گھروں کا سکیورٹی آڈٹ کیا جائے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔