بھارت: کوئلہ گھپلے پر سپریم کورٹ کا نوٹس

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 14 ستمبر 2012 ,‭ 13:40 GMT 18:40 PST
کوئلہ کان

بھارت میں کوئلہ کانوں کے الاٹمنٹ پر کافی تنازعہ ہے۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے کوئلہ کی کانوں کی الاٹمنٹ میں ہونے والے مبینہ گھپلے پر نوٹس لیتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی جانچ کرے اور یہ پتہ چلائے کہ پرائیوٹ کمپنیوں کو کوئلہ بلاک الاٹ کرنے میں ضابطوں کو مد نظر رکھا گیا تھا کہ نہیں۔

عدالت عظمی نے کہا ہے کہ کنپٹرولر اور آڈیٹر جنرل یعنی سی اے جی ایک آئینی ادارہ ہے اور اس کی رپورٹ پر یقین نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے اور اس معاملے پر حکومت کو وضاحت پیش کرنا چاہیے۔

بھارت کی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس کے لیے سپریم کورٹ نے حکومت کو آٹھ ہفتوں کی مہلت فراہم کی ہے۔

اس سے قبل حکومت نے کہا تھا کہ عدالت کو اس معاملے میں دخل نہیں دینا چاہیے کیونکہ اس معاملے کو پارلیمانی کمیٹی دیکھ رہی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل حزب اختلاف کی جانب سے کوئلہ کی کانوں کے الاٹمنٹ میں ہونے والے مبینہ گھپلے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بن رہی حکمراں جماعت کانگریس پارٹی نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوئلہ کی کانوں کی الاٹمنٹ میں کوئی گھپلہ نہیں ہوا اور اس سے حکومت نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔

اس سے قبل کوئلہ گھپلہ معاملے میں چہار جانب سے تنقید کا نشانہ بنی بھارت کی مرکزی حکومت نے چار کوئلہ بلاكوں کی الاٹمنٹ کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔

پی ٹی آئی کے مطابق جمعرات کو وزیروں کےگروپ کے اجلاس کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ کیا۔

حکومت نے تین پرائیوٹ کمپنیوں کی جانب سے دی گئی بینک گارنٹی کو بھی کیش کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کارروائی وقت پر کوئلہ کان کنی نہ کرنے کے معاملے میں کی گئی ہے۔

اس سلسلے میں کوئلہ وزارت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بین وزراء اجلاس میں پانچ کمپنیوں سے متعلق معاملات پر بات چیت ہوئی جنہیں پانچ کوئلہ بلاک تقسیم کئے گئے ہیں۔

بیان کے مطابق وزراء کےگروپ نے میسرس كیسٹران مائننگ لمیٹڈ کو انیس سو چھیانوے میں الاٹ برہمڈیہ بلاک، میسرس فیلڈمائننگ اینڈ سٹیل لمیٹڈ کو دوہزار تین میں الاٹ چنورا اور ورورا جنوبی بلاک اور میسرس - ڈومكو سموک لیس فيولس پرائیوٹ لمیٹڈ کو دوہزار پانچ میں الاٹ لال گڑھ شمالی بلاک منسوخ کرنے کی سفارش کی ہے۔

کوئلہ کے وزیر پرکاش جیسوال نے جمعرات کو کہا، (کوئلہ بلاک سے وابستہ) ’فائل آج بارہ بجے میرے پاس آئی، جس کی میں نے فورا منظوری دے دی۔‘

قابل ذکر ہے کہ وزراء کا یہ گروپ مجموعی طور پر اٹھاون کانوں کے الاٹمنٹ کی جانچ کر رہا ہے۔ گروپ نے ابھی تک نجی کمپنیوں کو الاٹ انتیس معاملوں کا جائزہ لیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔