راجستھان: پاکستانی ہندؤں کا احتجاج

آخری وقت اشاعت:  اتوار 16 ستمبر 2012 ,‭ 13:03 GMT 18:03 PST
پاکستان کے ہندو

پاکستان کے صوبہ سندھ سے بعض ہندو افراد بھارت چلے آئے ہیں

پاکستان سے بھارتی ریاست راجستھان کے شہر جودھ پور پہنچنے والے پاکستانی ہندوؤں کے ایک گروپ نے بھارت میں پناہ لینے کے لیے راجستھان کے وزیر اعلیٰ کے دفتر کے باہر خاموش احتجاج کیا۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے ان پاکستانی ہندوؤں کو عارضی پناہ دینے کے علاوہ ان کے دیگر مسائل کے حل کا یقین دلایا ہے۔

بی بی سی کے جے پور میں نامہ نگار نارائن باریٹھ نے بتایا کہ ہندوؤں کے فلاح کے لیے کام کرنے والی تنظیم سیمنت لوک سنگھٹن (ایس ایل ایس) کے صدر ہندو سنگھ سودھا نے اس خاموش مارچ کی قیادت کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا ’اس مارچ کا مقصد پاکستان سے آئے ہندوؤں کی حالت پرحکومت کی توجہ مرکوز کرانا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس خاموش مارچ میں تقریباً ڈیڑھ ہزار پاکستانی ہندوؤں نے حصہ لیا۔ ان میں تقریباً پونے چار سو وہ پاکستانی ہندو تھے جو حال ہی میں اپنا ملک چھوڑ کر بھارت آئے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ایک سو اکہتر افراد پر مشتمل ایک گروپ ’تھر ایکسپریس‘ کے ذریعے اتوار کو جودھ پور پہنچا تھا۔ اگرچہ یہ سب افراد یاترہ کے ویزے پر بھارت آئے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ واپس پاکستان نہیں جانا چاہتے۔

ہندو سنگھ سودھی نے دثویٰ کیا ’ہمیں اطلاع ملی ہے کہ اس ہفتے اتوار کے دن تھر ایکسپریس کے ذریعے اسّی ہندو پاکستان سے بھارت آنے والے تھے لیکن ان کے ٹکٹ منسوخ کردیے گئے۔‘

واضح رہے کہ تھر ایکسپریس ہر اتوار کو پاکستان سے جودھ پور پہنچتی ہے۔

مسٹر سودھی نے مزید بتایا کہ اتوار کو ہونے والے خاموش احتجاج کے دوران وہ لوگ وزیر اعلیٰ سے ملے اور انہوں نے پاکستان سے آئے ہندوؤں کے حالات کے بارے میں بتایا اور یہ بھی بتایا کہ یہ افراد کھلے آسمان کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

مسٹر سودھی کا کہنا ہے کہ حکومت نے انہیں یقین دلایا ہے کہ جلد ہی ان افراد کے رہنے کا انتظام کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل مسٹر سودھی کی تنظیم حکومت سے درخواست کرچکی ہے کہ ان افراد کومہاجر ویزا جاری کیا جائے۔

مسٹر سودھی کا کہنا ہے کہ پاکستان سے ہندو‎ؤں کے آنے کا سلسلہ جاری ہے اور ہر ہفتے وہاں کے ہندو شہری پاکستانی پناہ لینے کے لیے بھارت آرہے ہیں۔

جودھ پور پہنچنے پر انہیں ایس ایل ایس کی جانب سے کھانے پینے اور رہنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ ایس ایل ایس ان پاکستانی ہندوؤں کے لیے برسوں سے یہ کوشش کررہی ہے کہ انہیں بھارت میں رہنے کی اجازدت دے دی جائے۔

ایس ایل ایس کے ایک ترجمان کے مطابق یہ سبھی افراد پاکستان کے صوبہ سندھ سے یہاں آئے ہیں اور ’ان سب کا تعلق صوبہ سندھ کے شہر سانگھڑ اور حیدرآباد سے ہے‘۔

گروپ میں بتیس خواتین اور بچے شامل ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق بھیل قبائل سے ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل کچھ پاکستانی ہندوؤں نے دلی میں آ کر پناہ لی ہے اور ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ وہ واپس پاکستان نہیں جانا چاہتے کیونکہ وہ وہاں اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ حکومت پاکستان بار بار یہ کہتی رہی ہے کہ ملک میں اقلیتیں خاص طور پر ہندو پوری طرح محفوظ ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔