ممتا کا الٹی میٹم، سیاسی گہماگہمی میں اضافہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 ستمبر 2012 ,‭ 07:56 GMT 12:56 PST

کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ نے سینیئر رہنماؤں سے صلاح و مشورہ کیا ہے

بھارت میں حکمراں اتحاد یو پی اے سے ممتا بینرجی نے الگ ہونے کا جو الٹی میٹم دیا ہے اس سے پیدا ہونے والے بحران سے نمنٹنے کے لیے کانگریس سمیت دیگر جماعتیں مستقبل کی حکمت عملی پر غور و فکر کر رہی ہیں۔

منموہن سنگھ کی حکومت میں شامل علاقائي جماعت ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بینرجی نے منگل کی شام کو متحدہ ترقی پسند محاذ (یو پی اے) کی حمایت ترک کرنے کا اعلان کیا تھا۔

موجودہ لوک سبھا میں ترنمول کانگریس کے انیس ارکان ہیں اور حمایت واپس لینے کے بعد حکومت اقلیت میں ہوجائیگی۔

بھارتی لوک سبھا کے پانچ سو تینتالیس ارکان کے ایوان میں یو پی اے کو اکثریت کے لیے دو سو بہتر ارکان کی حمایت درکار ہے۔

بدھ کے روز حکمراں جماعت کانگریس پارٹی کے سینیئر رہنماؤں نے پارٹی کی صدر سونیا گاندھی اور وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقاتیں کیں ہیں اور حالات کا جائزہ لیا۔ کانگریس پارٹی کی کور کمیٹی میٹنگ بھی ہوئي ہے۔

اطلاعات کے مطابق کانگریس پارٹی چاہتی ہے کہ ممتا بینرجی کے جو مطالبات ہیں اس میں سے کچھ کو تسلیم کر لیا جائے تاکہ ان کی جماعت کو حکمراں اتحاد میں برقرار رکھا جا سکے۔

خبروں کے مطابق کانگریس پارٹی نے ممتا بینرجی سے رابطہ کیا ہے اور ان سے بات چيت کی کوششیں ہورہی ہیں۔

امکان اس بات کا ہے کہ حکومت ڈیزل کی بڑھائي گئي قیمت میں کچھ کمی کر سکتی ہے اور گيس سیلنڈر پر لگائي گئی پابندیوں کا فیصلے پر بھی نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔

لیکن حکومت ریٹیل بازار میں بیرونی سرمایہ کاری کے فیصلے پر اٹل ہے اور وہ اسے واپس لینے کے لیے تیار نہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ ایف ڈي آئي کا فیصلہ واپس لینے سے حکومت کی شبیہ متاثر ہوگي۔

ترنمول کانگریس کے وزراء نے ابھی استعفی نہیں دیا ہے اور جمعہ تک کا وقت دیا ہے۔ اگر حکومت نے ممتا بینرجی کے مطالبات تسلیم کر لیے تو ان کی جماعت حکومت میں بنی رہیگی۔

ممتا بینرجی

ممتا بینرجی حکومت کے فیصلوں سے ناراض ہیں

ممتا بینرجی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت خوردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فیصلے کو واپس لیتی ہے، ہر سال ہر خاندان کو ملنے والے گیس کے سلینڈروں کی تعداد بارہ تک بڑھاتی ہے اور ڈیزل کی قیمت میں کیےگئے اضافے میں کچھ کمی لاتی ہے تو وہ حمایت واپس لینے کے فیصلے پر دوبارہ غور کر سکتی ہیں۔

کانگریس پارٹی بہوجن سماج پارٹی کی رہنما مایا وتی اور سماجوادی پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ یادو سے بھی رابطے میں ہے اور اگر ان میں سے کوئی بھی جماعت حکومت کی حمایت کے لیے تیار ہوئی تو حکومت محفوظ رہےگی۔

لیکن ان جماعتوں کی جانب سے ابھی کوئی یقین دہانی نہیں کرائي گئی ہے۔ ملائم سنگھ یادو کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کی میٹنگ جمعرات کو ہوگی تبھی کوئی فیصلہ کیا جائیگا۔

بہوجن سماج پارٹی کی طرف سے ابھی کوئی بیان سامنے نہیں آيا ہے لیکن بی ایس پی بھی مستقبل کے تئیں اپنی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔

لیکن ایک بات واضح ہے کہ ان دونوں جماعتوں نے بھی ممتا بینرجی کی طرف ایف ڈی آئی، ڈیزل کی قیمت میں اضافہ اور گيس سیلنڈر کے سوال پر ممتا بینرجی کے موقف کی حامی ہیں اس لیے ان کے بھی لیے کوئي فیصلہ کرنا آ‎سان نہیں ہوگا۔

اس دوران حکومت میں شامل ایک اور جماعت ڈي ایم کے نے اعلان کیا ہے کہ ڈیزل اور گيس سیلنڈر پر حکومت کے فیصلے کے خلاف بیس تاریخ کو بلائي گئی عام ہڑتال میں وہ شامل ہوگی۔

اس سے کانگریس پارٹی کا درد سر اور بڑھ گیا ہے لیکن ڈی ایم کا کہنا ہے کہ وہ حکومت شامل ہے اور اپنی حمایت واپس نہیں لے گي۔

یو پی اے کے لوک سبھا میں دو سو تہتر ممبران پارلیمان ہیں لیکن اسے سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور راشٹریہ جنتا دل کی بیرونی حمایت حاصل ہے۔

ترنمول کانگریس کی حمایت واپس لینے سے یہ تعداد دو سو چوّن ہو جائے گی جس سے یو پی اے حکومت بیرونی حمایت دینے والے جماعتوں پر بری طرح سے منحصر ہو گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔