بھارت:سری لنکن صدر کے دورہ کی سخت مخالفت

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 ستمبر 2012 ,‭ 13:51 GMT 18:51 PST

راجا پکشہ کا یہ دورہ بھارت تنازعات سے پر رہیگا

جنوبی ریاست تمل ناڈو کی علاقائی جماعت ایم ڈی ایم کے سربراہ وائیکو نے سری لنکا کے صدر راجا پکشے کے بھارت کے دورہ کی مخالفت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سری لنکا کے صدر راج پکشے بدھ کی شام کو ہی بھارت کے دورہ پر آئے ہیں اور وائیکو کی جماعت نے ان کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سری لنکا کے صدر بھارت کے دورہ کے دوران ریاست مدھیہ پردیش کا بھی دورہ کریں گے اور ریاست میں بی جے پی کی حکومت نے انہیں تاریخی شہر سانچی میں ایک بدھ یونیورسٹی کی بنیاد رکھنے کے لیے مدعو کیا ہے۔

یونیورسٹی کی بنیاد جمعہ کو رکھی جائیگی جس کے لیے راج پکشے سانچی جانے والے ہیں۔ لیکن تمل ناڈو کی کئی جماعتیں بی جے پی کے اس فیصلہ سے خوش نہیں ہیں۔

وائیکو اپنے تقریباً ایک ہزار ساتھیوں اور حامیوں کے ساتھ تمل ناڈو سے ناگپور پہنچے ہیں اور وہ مدھیہ پردیش جاکر مسٹر پکشے کی موجودگی میں ان کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے والے ہیں۔

ناگپور میں ایم ڈی ایم کے سربراہ نے کہا’ یہ جانتے ہوئے بھی کہ کہ سری لنکا میں تملوں کی نسل کشی کے لیے راج پکشے ذمہ دار ہیں مدھیہ پردیش کی شیو راج سنگھ چوہان کی حکومت انہیں مدعو کیا اور مرکزی حکومت نے اس کی تائید کی ہے۔‘

"ہ جانتے ہوئے بھی کہ کہ سری لنکا میں تملیوں کی نسل کشی کے لیے راج پکشے ذمہ دار ہیں مدھیہ پردیش کی شیو راج سنگھ چوہان کی حکومت انہیں مدوع کیا اور مرکزی حکومت نے اس کی تائید کی ہے۔"

مسٹر وائیکو نے کہا ’ہم نے مسٹر راج پکشے کے دورہ پر سخت اعتراض کیا تھا لیکن مسٹر چوہان نے ہماری پراوہ نہ کرتے ہوئے انہیں پھر سانچی آنے کی دعوت دی۔ حال ہی میں حزب اختلاف کی رہنما سشما سوارج نے بھی مسٹر پکشے سے ملاقات کی تھی اور ہم نے اس پھر بھی ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔‘

ایم ڈی ایم کے کے احتجاج کے سبب سانچی میں زبردست سکیورٹی کے انتظامات کیےگئے ہیں اور بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔

لیکن وائیکو نے کہا کہ ان کے ہزاروں حامی کسی بھی طرح وہاں پہنچ کر راج پکشے کے خلاف احتجاج کریں گے اور وہ اس کے لیے کسی بھی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اطلاعات کے مطابق احتجاج سے پہلے ہی وائیکو کو حراست میں لیا جا سکتا ہے۔

بھارتی ریاست تمل ناڈو میں سری لنکن تملوں کے سات سکول کے حوالے سے غم و غصہ بتایا جاتا ہے اور کئی سیاسی جماعتوں نے راج پکشے کے دورہ کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حال ہی میں ریاست کی وزیراعلیٰ جے للتا نے کولمبو کی ایک فٹبال ٹیم کو اپنی ریاست میں دوستانہ میچ کھیلنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا اور ٹیم کو واپس سری لنکا بھیجنے کا حکم دیدیا تھا۔

وزیراعلٰی جے للتا کا کہنا تھا کہ انہیں اس وقت پتہ چلا جب کولمبو کی ٹیم دوسرا میچ کھیلنے کی تیاری کر رہی تھی۔ بھارتی حکومت نے سری لنکا کی فوج کو تربیت دینے کا فیصلہ کیا ہے اور جنوبی ریاست تمل ناڈو کی سیاسی جماعتیں مرکزی حکومت کے اس فیصلے سے بھی سخت ناراض ہیں۔

جے للتا کا کہنا ہے کہ سری لنکا کی فوج نے تمل باغیوں کے خلاف لڑائی میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور بھارت کو ان کی تربیت نہیں کرنی چاہیے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔