’زمانہ بلند عمارتوں میں کاشت کاری کا ہے‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 23 ستمبر 2012 ,‭ 12:16 GMT 17:16 PST
ٹماٹر

ٹماٹر کو کثیر منزلہ عمارتوں میں بھی اگایا جا سکتا ہے۔

بھارت کے وزیر اعظم کے مشیر سیم پترودا کا کہنا ہے کہ بھارت میں زراعت کے شعبے میں انقلابی تبدیلیوں کا وقت آ گیا ہے۔

واضح رہے کہ پترودا نے ٹیلیفون کو سرکاری دفتروں اور امیر طبقوں سے نکال کر عوام میں پہنچایا تھا۔

اب سیم پترودا کا کہنا ہے کہ بھارت میں زمین پر کاشتکاری کے روایتی طریقے کو چھوڑ کر کثیر منزلہ عمارتوں پر عمودی کھیتی باڑی شروع کرنی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ دور میں اس طرح کی کاشتکاری کی جا رہی ہے۔ بغیر مٹی کے کاشتکاری کی تکنیک کو فروغ دیا جا چکا ہے جس میں فصلیں اگانے کے لیے پانی میں وہ اجزا ملا دیے جاتے ہیں جو فصلوں کے بڑھنے میں معاون ہوتے ہیں۔ اس طریقے کو ہائڈرو پونکس کہا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت جیسے بڑی آبادی والے ملک کو نہ صرف رہائش کے لیے کثیر منزلہ عمارتوں کے استعمال کی ضرورت ہے بلکہ کثیر منزلہ کاشتکاری کی بھی ضرورت ہے۔

سیم پترودا

سیم پترودا ورٹیکل کاشتکاری کے حامی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’میں ورٹیکل فارمنگ (عمودی کاشتکاری) کا حامی ہوں یعنی زمین کے بجائے اونچی اونچی عمارتوں میں کھیتی کی جائے۔ ابھی آپ چار ایکڑ زمین پر ٹماٹر اگا رہے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ آپ آدھ ایکڑ زمین لے لیں ان پر اونچی عمارتیں بنائیں اور ہر منزل پر ٹماٹر اگائیں۔ یہاں تک کہ بغیر مٹی کے بھی ٹماٹر اگایا جا سکتا ہے۔‘

عمودی کاشتکاری میں کھیتی سپاٹ زمین پر نہ ہو کر کثیر منزلہ عمارتوں میں ہوتی ہے جسے کثیر منزلہ گرین ہاؤس بھی کہا جاسکتا ہے۔

امریکہ، چین، ملیشیا، اور سنگاپور جیسے کئی ممالک میں پہلے سے ہی عمودی کاشتکاری کی جا رہی ہے۔ اس میں کثیر منزلہ عمارت میں پھل اور سبزیاں اگائی جاتی ہیں۔ عمارت کی دیواریں کانچ کی ہوتی ہیں اور اس میں جدید طرز سے آب پاشی کی جاتی ہے۔ کانچ کی دیواروں کے ذریعے فصل کو مستقل سورج کی روشنی ملتی رہتی ہے۔

بھارت میں ابھی عمودی کاشتکاری تو نہیں کی جارہی ہے لیکن ریاست پنجاب میں کچھ جگہ ہائڈروپونکس طریق پر آلو اگائے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔