اسلام مخالف فلم، ممبئي میں یوٹیوب پر مقدمہ

آخری وقت اشاعت:  پير 24 ستمبر 2012 ,‭ 10:39 GMT 15:39 PST
مظاہرہ

متنازعہ فلم کے خلاف دنیا کے مختلف علاقوں میں مظاہرے ہوئے ہیں

بھارت کے صنعتی شہر ممبئی کی ہائی کورٹ میں امریکہ میں بننے والی پیغمبر اسلام کے خلاف متنازعہ فلم کے تعلق سے یوٹیوب پر مقدمہ درج کیا گيا ہے۔

ممبئی کے ایک مقامی وکیل اعجاز نقوی نے پیر کو اس فلم کے پروڈیوسر اور یوٹیوب پر فلم کے ٹریلر ڈالنے کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ اس کیس کی سماعت ممبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کھن ولکر کریں گے۔

یہ مقدمہ کانگریس پارٹی کے ایک رکن امین مصطفی ادریسی کے نام سے اعجاز نقومی نامی ممبئی کے وکیل نے دائر کیا ہے۔

مسٹر ادریسی نے فلم کے ٹریلر نشر کرنے پر گوگل کے چیف ایگزکٹیو لیری پیج کے خلاف کاررائی کا مطالبہ کیا ہے اور گوگل اور یوٹیوب پر مقدمہ چلانے کی بات کہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یوٹیوب پر فلم کے آنے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ وکیل اعجاز نقوی کے مطابق مقدمہ پیر کو دائر کیا گیا ہے اور اسی روز اس پر سماعت کی توقع ہے۔

بھارت میں متنازع فلم کے ٹریلر اور اس کے جزوی حصے اب بھی یوٹیوب کی سائٹ پر دیکھے جا سکتے ہیں اور عرضی گزار کا کہنا ہے اگر انہیں نا ہٹایا گیا تو اس سے حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔

’انوسینس آف مسلم‘ نامی اس فلم کے خلاف دنیا بھر کے مسلم ممالک میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں اور بھارت کے بھی بعض شہروں میں اس کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔

بھارت میں اس فلم کے خلاف سب سے زیادہ مظاہرے جنوبی ریاست تمل ناڈو اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں دیکھنے میں آئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔