آسام میں سیلاب سے لاکھوں افراد متاثر

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 ستمبر 2012 ,‭ 09:30 GMT 14:30 PST

سیلاب سے زبردست مالی نقصان پہنچا ہے

ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں سیلاب سے صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے اور تازہ اطلاعات کے مطابق سیلاب سے متاثرہ تقریباً ڈھائی لاکھ لوگوں نے امدادی کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق برہم پتر اور اس میں گرنے والی ندیوں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور سولہ اضلاع کے دو ہزار دیہات میں متاثرین کی تعداد پندرہ لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

آسام اور اس کی ہمسایہ ریاستوں میں کئی روز سے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور محکمۂ موسمیات کے مطابق اروناچل پردیش میں شدید بارشیں ہوئی ہیں۔

جورہاٹ ضلع کے مجولی جزیرے میں سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں بھی پانی داخل ہوگیا ہے اور سیلاب کی وجہ سے مقامی جیل کو خالی کرایا گیا ہے۔

وہاں سے پیر کو ایک کشتی میں اکتالیس قیدیوں کو جورہاٹ کی سینٹرل جیل میں منتقل کیا گیا۔

ایک سینگھ والے دریائی گھوڑوں کے لیے مشہور قاضی رنگا نیشنل پارک بھی سیلاب کی زد میں ہے اور اطلاعات کے مطابق جنگلی جانور پانی سے بچنے کے لیے اونچے مقامات کی طرف جا رہے ہیں۔

ریاست میں ایک سو چھیاسٹھ رلیف کیمپ قائم کیےگئے ہیں جہاں سرکاری ذرائع کے مطابق دو لاکھ اکتیس ہزار سے زیادہ لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے۔

آسام کے کئی علاقے نسلی کشیدگی کی بھی زد میں ہیں اور وہاں تشدد میں تقریباً سو لوگ مارے جا چکے ہیں۔

لاکھوں کی تعداد میں اب بھی لوگوں نے امدادی کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے حالانکہ تشدد کا زور اب کم ہوگیا ہے۔

آسام میں اکثر سیلاب آتے ہیں اور رواں سال میں ہی یہ تسری مرتبہ ہے کہ ریاست کا تقریباً ایک تہائی حصہ زیر آب ہے۔

موجودہ سیلاب میں اب تک تین لوگوں کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔

دریائے برہم پتر ڈبروگڑھ، نیماتی گھاٹ، تیزپور، ڈھوبری، گواہاٹی اور گول پاڑہ میں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی کی ہدایت پر لوگوں کو بچانے کے لیے ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے اور امداد کے کام میں قدرتی آفات سے متعلق امدادی کارکن ، فوج اور فضائیہ کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔