کشمیر: جھڑپ میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 ستمبر 2012 ,‭ 07:36 GMT 12:36 PST

کشمیر میں بھارتی فوج آئے دن تصادم میں عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں کا دعوی کرتی رہتی ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں پیر کی شب فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں ایک فوجی اور ایک عسکریت پسند ہلاک ہو گیا ہے۔

اس سے قبل شمالی کشمیر میں ایک منتخب پنچایت سربراہ کے پراسرار قتل کے بعد وادی کے اسّی پنچوں اور سرپنچوں نے اخبارات کے ذریعہ اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا تھا۔

کشمیر میں سلامتی کی یہ صورتحال ایسے وقت پیدا ہوئی جب یہاں تعینات سیکورٹی ایجنسیاں بھارتی صدر پرنب مکھرجی کے دورے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

بھارتی صدر پرنب مکھرجی جمعرات کو کشمیر یونیورسٹی کے سالانہ کانووکیشن میں مہمانِ خصوصی ہونگے۔ بعض طلباءگروپوں نے اس روز بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔

شمالی کشمیر کے ہندوارہ قصبہ میں ہوئے تصادم کی تفصیلات دیتے ہوئے ایک فوجی افسر نے بتایا کہ پیر کی شب فوج کا گشت کرنے والا ایک دستہ ہریل جنگلات میں جارہا تھا تو اس کا سامنا مسلح عسکریت پسندوں کے ساتھ ہوا۔

فوج کے مطابق رات بھر جاری رہنے والے اس تصادم میں فوجی اہلکار سندیپ سنگھ مارا گیا جب کہ ایک غیرشناخت شدہ عسکریت پسند بھی ہلاک ہوا۔

"یہاں ایک رواج چل پڑا ہے کہ جس مکان میں عسکریت پسند ہوں، اس کو اُڑا دو۔ اگر ہماری فوج تربیت یافتہ ہے، تو محض ایک یا دو بندوق برداروں کے لیے غریب لوگوں کے مکان کو برباد کیوں کیا جائے۔"

لنگیٹ حلقے کے رکن اسمبلی، عبد الرشید

ہندوارہ کے ہی لنگیٹ حلقے کے رکن اسمبلی عبدالرشید نے بی بی سی کو بتایا کہ تصادم کی خبر پاتے ہی وہ جائے واردات پر گئے اور فوجی حکام سے کہا کہ وہ مکان کو بارود سے نہ اُڑا ئیں۔

عبدالرشید نے بتایا ’یہاں ایک رواج چل پڑا ہے کہ جس مکان میں عسکریت پسند ہوں اس کو اُڑا دو۔ اگر ہماری فوج تربیت یافتہ ہے، تو محض ایک یا دو بندوق برداروں کے لیے غریب لوگوں کے مکان کو برباد کیوں کیا جائے‘۔

قابل ذکر ہے کہ کشمیر میں سلامتی کی موجودہ صورتحال پر فوج اور پولیس کے درمیان تاویلات کی جنگ جاری ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ کنٹرول لائن کے ذریعہ مسلح افراد کی دراندازی کا سلسلہ جاری ہے اور پچھلے چند ہفتوں میں کم از کم چوبیس ایسے عسکریت پسند کشمیر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

دریں اثنا شمالی کشمیر کے ایک نائب سرپنچ کی ہلاکت کے بعد درجنوں پنچائیت ممبر مستعفی ہوگئے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ انہیں سیکورٹی گارڈز فراہم نہ کرکے ان کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔