بھارتی صدر کا دورہ کشمیر، سکیورٹی سخت

آخری وقت اشاعت:  بدھ 26 ستمبر 2012 ,‭ 07:32 GMT 12:32 PST
پرنب مکھرجی

بھارتی صدر بدھ کی شام کو سرینگر پہنچنے والے ہیں

بھارتی صدر پرنب مکھرجی کشمیر کا تین روزہ دورہ بدھ کے روز سے شروع کررہے ہیں لیکن اس اہم دورے پر کشمیر میں ہڑتال اور مظاہروں کی اپیل کی گئی ہے۔

اس پس منظر میں حکومت نے سکیورٹی پابندیوں کو مزید سخت کردیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر پرنب مکھرجی کا خصوصی طیارہ بدھ کی شام سرینگر کے فوجی ہوائی اڈے پر اترےگا۔ گورنر، وزیر اعلیٰ اور فوج و پولیس کے اعلیٰ افسران کا استقبال کریں گے۔

واضح رہے کہ بھارتی صدر کشمیر کی سب سے پرانی دانشگاہ کشمیر یونیورسٹی میں جمعرات کو سالانہ کانووکیشن کا افتتاح کریں گے۔ لیکن سرکاری طور پر کالعدم قرار دی گئی کشمیر سٹوڈنٹس یونین یا ’کُوسُو‘ نے اس سلسلے میں یوم سیاہ منانے اور مظاہرے کرنے کی اپیل کی ہے۔

اس دوران علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے جمعرات کو مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ وکلاء اور پاکستان میں مقیم عسکری گروپوں کے اتحاد جہاد کونسل نے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ان اپیلوں کے پیش نظر سرینگر اور یونیورسٹی کے گردونواح میں سخت سیکورٹی پابندیاں نافذ ہیں۔

ذرا‏ئع نے بتایا کہ مظاہروں کو روکنے کے لیے پولیس نے کشمیر یونیورسٹی کے ہاسٹلوں سے سکالروں اور طلبا کو منتقل کردیا ہے اور اونچی عمارتوں پر نشانہ بازوں کو تعینات کیا گیا۔

طلباء یونین نے فیس بُک پر اپنی تازہ پوسٹ میں لکھا ہے ’جس فوج نے ہمارے دوستوں کو جوابدہی کے کسی احساس کے بغیر قتل کردیا، اسی فوج کے سپریم کمانڈر کا استقبال ہم کیسے کریں گے۔ ہمیں اپنی ناراضگی کا اظہار کرنا چاہیے۔‘

"جس فوج نے ہمارے دوستوں کو جوابدہی کے کسی احساس کے بغیر قتل کردیا، اسی فوج کے سپریم کمانڈر کا استقبال ہم کیسے کرینگے۔ ہمیں اپنی ناراضگی کا اظہار کرنا چاہیئے۔"

سرینگر میں ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق کانووکیشن میں شرکت کرنے والے ہر طالب علم کی تلاشی لی جائے گی۔

ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلی بار جب نائب صدر آئے تھے تو کچھ طلباء بھارتی قومی ترانے کے وقت بیٹھے رہے۔ گورنر نے اس حرکت کو بھارتی قومی ترانے کی تذلیل قرار دیا۔‘

دوسری جانب کشمیر کی ستاسی رکنی قانون ساز اسمبلی کے رکن عبدالرشید نے صدر کی آمد پر سرینگر میں دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ وہ صدر سے مطالبہ کرینگے کہ وہ پارلیمنٹ پر حملے میں مجرم قرار دیےگئے افضل گورو کو سنائی گئی پھانسی کی سزا معاف کریں۔

قابل ذکر ہے کہ صدر کی آمد سے چند گھنٹے قبل ہی افضل گورو کی پچھتر سالہ والدہ شمالی کشمیر کے آبائی گاؤں دآبگاہ میں انتقال کرگئیں۔ انہوں نے میڈیا انٹرویوز میں اپنے بیٹے کے لیے صدر سے رحم کی اپیلیں کی تھیں۔

بدھ کی شام گورنر نریندر ناتھ نے صدر ہند کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا ہے۔ جمعرات کو یونیورسٹی کانووکیشن کے بعد صدر مکھرجی مشہور جھیل ڈل کی سیر کریں گے اور دیر رات حکومت کے تجویز کردہ بعض قلم کاروں اور دانشوروں کے ساتھ ملاقات کرینگے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔