سہراب الدین جعلی پولیس مقابلہ: معاملہ ممبئی منتقل

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 27 ستمبر 2012 ,‭ 11:55 GMT 16:55 PST
امت شاہ

امت شاہ نریندر مودی کے قریبی مانے جاتے ہیں

بھارتی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ سہراب الدین فرضی تصادم معاملے کی شنوائی گجرات کی جگہ ممبئی میں ہوگی وہیں عدالت نے معاملے میں اہم ملزم اورگجرات کے سابق وزیِر داخلہ امت شاہ کو ضمانت دینے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

سہراب الدین فرضی تصام معاملے میں مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میں امت شاہ پر قتل، اغوا، پھروتی اور سازش رچنے کا الزام لگایا ہے۔ سی بی آئی نے امت شاہ اور دیگر افراد کو اس معاملے میں ملزم بنایا ہے۔ سی بی آئی نے سپریم کورٹ سے اپیل کی تھی کہ وہ ہائی کورٹ کی جانب سے امت شاہ کو ضمانت دیے جانے کے فیصلے کو منسوخ کرے۔

سپریم کورٹ نے سی بی آئی کی اس اپیل کو مسترد کرتے ہوئے امت شاہ کی ضمانت کو برقرار رکھا ہے۔

سہراب الدین مقدمے کی سماعت اب ممبئی میں ہوگی جو کہ گجرات حکومت کے لیے ایک دھچکا مانا جا رہا ہے کہ کیونکہ عدالت کے اس فیصلے سے ان سماجی کارکنان کے موقف کو حمایت ملی ہے جو کہتے رہیں کہ گجرات میں نریندر مودی کے ہوتے ہوئے معاملے کی شفاف شنوائی مشکل ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے عدالت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ کانگریس کے رہنما سلمان خورشید نے کہا ہے کہ وہ عدالت کا فیصلے کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنا رد عمل دیں گے۔

امت شاہ کو گرفتاری کے بعد سنہ دو ہزار دس میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ تین مہینے احمدآباد کی سابرمتی جیل میں گزارنے کے بعد انہیں ضمانت مل گئی تھی لیکن انہیں گجرات سے باہر رہنے کے لیے کہا گیا تھا۔

سی بی آئی نے امت شاہ کی ضمانت کی مخالفت کی تھی۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ جیل سے باہر رہ کر امت شاہ گواہوں اور ثبوتوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

سہراب الدین

سہراب الدین شیخ کے فرضی تصادم معاملے کی تفتیش سی بی آئی کررہی ہے

تین مہینے احمد آباد کی سابرمتی جیل میں گزارنے کے بعد انہیں ضمانت مل گئی تھی لیکن انہیں گجرات سے باہر رہنے کے لئے کہا گیا تھا۔

واضح رہے کہ امت شاہ اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو غلط بتاتے ہیں۔

فیصلے پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کے ترجمان پرکاش جاوڑیکر نے کہا کہ ’گجرات کے عوام اور جمہوریت میں یقین رکھنے والے لوگ فیصلے کا خیر مقدم کریں گے‘۔

واضح رہے کہ سہراب الدین کو گجرات پولیس نے نومبر 2005 میں مبینہ طور پر لشکر طیبہ کا دہشت گرد بتا کر ہلاک کر دیا تھا۔ لیکن جب اس کی تفتیش کی گئی تو پتہ چلا کہ وہ ایک فرضی پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے۔

ریاستی حکومت سپریم کورٹ میں داخل کیےگئے اپنے ایک حلف نامے میں یہ بات تسلیم کر چکی ہے کہ سہراب الدین کو فرضی مقابلے میں مار دیا گیا تھا

سپریم کورٹ کی ہدایات پر ہی سی بی آئی اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔ اس مقدمے میں اب تک انسداد دہشت گردی اور کرائم برانچ کے سر براہوں سمیت دس سے زیادہ پولیس اہلکار گرفتار کیے جاچکے ہیں۔ فرد جرم میں امت شاہ پر اغوا اور قتل کی سازش کا الزام لگایا ہے۔

تفتیش کے مطابق پولیس نے راجستھان کے باشندے سہراب الدین کی بیوی کو بھی قتل کر دیا تھا۔ لیکن ان کی لاش یا باقیات کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ پولیس نے اس واقعہ کے ایک چشم دید گواہ اور سہراب الدین کے ساتھی تلسی رام پرجا پتی کو بھی ایک سال بعد مینہ طور پر ایک فرضی جھڑپ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس معاملے کی بھی تفتیش چل رہی ہے۔

سی بی آئی نے مسٹر امت شاہ کو طلب کرنے سے پہلے ان کے خلاف کافی ثبوت جمع کیے ہیں۔ سی بی آئی کو شک ہے کہ مسٹر شاہ کو سہراب ا لدین کے ’جعلی پولیس مقابلے‘ کے بارے میں پہلے سے معلوم تھا اور وہ پولیس اہلکاروں سے مسلسل رابطے میں تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔