مذہب کے نام پر ہراساں نہ کریں: سپریم کورٹ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 27 ستمبر 2012 ,‭ 08:58 GMT 13:58 PST
بھارتی سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے ' مائی نیم از خان' فلم کا ذکر کیا ہے

بھارتی سپریم کورٹ نے شدت پسندی کے الزام میں سزا پانے والےگجرات کےگيارہ مسلمانوں کو بری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاص برادری یا مذہب کے لوگوں کو ہراساں کرنے کے لیے قانون کا بےجا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سینیئر پولیس افسران اور حکام جنہیں قانون نافذ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے وہ قانون کو خاص مذہب کے لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے قانون کا غلط استعمال نا ہونے دیں۔

سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ نے کہا کہ حکام کو ’اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ کوئي معصوم شخص کو محض اس لیے مصیبت میں مبتلا محسوس نہ کرے کہ ’مائی نیم از خان بٹ آئی ایم ناٹ اے ٹیررسٹ‘۔‘

شاہ رخ خان کی ایک فلم ’مائی نیم از خان‘ کا یہ ایک ڈائیلاگ ہےجس میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئي ہے کہ محض نام یا مذہبی شناخت کی بنیاد پر دہشتگردی کا شک کیا جاتا ہے اور ادا کار کہتا ہے کہ میرا نام تو خان ہے لیکن میں دہشت گرد نہیں ہوں۔

عدالت نے ریاست گجرات کے جن گيارہ مسلمانوں کو بری کیا ہے ان پر سنہ انیس سو چورانوئے میں ہندوؤں کی ایک مذہبی تقریب میں تشدد کی کارروائي کے لیے منصوبہ بندی کا الزام تھا۔

ان افراد پر انسداد دہشت گردی کے بد نام زمانہ قانون ٹاڈا کے تحت مقدمہ درج کیا گيا تھا اور گجرات کی عدالت نے ہر فرد کو پانچ برس برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

"ٹاڈا کے تحت بغیر مناسب احتیاطی تدابیر کے مقدمہ درج کرنا اور نتیجتا بری ہوجانے سے ملک کے دشمنوں سمیت بہتوں کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ اس قانون کو پریشان کرنے کے لیے غلط استعمال کیا گيا۔"

سپریم کورٹ

گجرات کی عدالت کے فیصلے کو چند ملزمین نے ہی سپریم کورٹ میں چيلنج کیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے اس معاملے کے ان افراد کو بھی بری کر دیا جو سزا کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چيلنج کرنے سے قاصر تھے۔

گجرات کی حکومت نے سپریم کورٹ سے اپیل کیا تھا کہ چونکہ ان افراد کو صرف پانچ برس کی قید کی سزا سنائي گئی ہے اس لیے سزا مزید سخت کی جائے لیکن عدالت نے اسے مسترد کر دیا۔

سپریم کورٹ کا موقف تھا کہ ان افراد پر انسداد دہشتگردی کے قانون ٹاڈا کے تحت جو مقدمہ درج کیا گيا تھا اس میں ضابطوں کی خلاف ورزیاں کی گئی تھیں۔

ٹاڈا قانون کو حکومت نے کئي حلقوں کی شدید نکتہ چینیوں کے بعد کافی پہلے ختم کر دیا تھا۔ اس قانون کے مطابق پولیس حراست میں ملزم کے بیانات کو بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا تھا۔

اس قانون کے تحت ملک کے مختلف حصوں سے مسلمانوں کو گرفتار کیا گيا تھا اور چونکہ گرفتاری کے بعد ضمانت ملنی مشکل تھی اس لیے بہت سے معصوموں کی زندگياں بری ہونے تک جیل میں ہی برباد ہوگئیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ پولیس حکام کی جانب سے اس طرح کی غیر مناسب کارروائیوں سے غلط پیغام پہنچتا ہے۔

’ٹاڈا کے تحت بغیر مناسب احتیاطی تدابیر کے مقدمہ درج کرنا اور نتیجتا بری ہوجانے سے ملک کے دشمنوں سمیت بہتوں کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ اس قانون کو پریشان کرنے کے لیے غلط استعمال کیا گيا۔‘

حالانکہ عدالت نے دہشت گردی جیسے معاملات سے نمٹنے میں پولیس کی مشکلات کو سمجھنے کی بات کی اور ان کی کوششوں کو سرہا بھی لیکن کہا کہ قانون کا بے جا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔