سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کا حکم

آخری وقت اشاعت:  بدھ 3 اکتوبر 2012 ,‭ 11:55 GMT 16:55 PST

سکولوں میں بنیادی سہولیات نا ہونےکے سبب لڑکیاں سکول نہیں جاتیں

بھارتی سپریم کورٹ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ سکولوں میں طلباء کو پانی اور بیت الخلاء جیسی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔

بھارت کے دور دراز دیہی علاقوں کے سکولوں میں پینے کے پانی اور بیت الخلاء جیسی سہولیات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ایک غیر سرکاری تنظیم ’اینوائرمینٹل اینڈ کنزیومر پروٹیکشن فاؤنڈیشن‘' نے اس جانب توجہ دلانے کے لیے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی تھی۔

اسی عرضی پر سماعت کے بعد عدالت نے مرکزی اور ریاستی حکومت کو احکامات جاری کیے ہیں۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ تمام نجی اور سرکاری سکولوں کو آئندہ چھ ماہ کے اندر ان ہدایات پر پوری طرح عمل کرنا ضروری ہے اور اگر اس میں ناکامی ہوئی تو اسے بہت سنجیدگی سے لیا جائے گا۔

عدالت نے درخوسات گذار سے کہا ہے کہ اگر انہیں کہیں بھی اس حکم کی تعمیل میں کوتاہی نظر آئے تو وہ فوراً اس سکول کے خلاف عدالت کا رخ کر سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ پہلے ہی سے سکولوں میں بنیادی سہولیات فراہم کرنے پر زور دیتی رہی ہے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ بہت سے علاقوں میں لوگ لڑکیوں کو سکول اس لیے نہیں بھیجتے کہ کیونکہ وہاں بیت الخلاء کا انتظام نہیں ہے۔

کورٹ کا کہنا تھا کہ سکولوں میں بنیادی سہولیات فراہم نہ کرنا آئین کے اس دفعہ کی خلاف ورزی ہے جس کےتحت بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم دینے کی بات کہی گئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔