بھارت: جوہری بجلی گھر کی تعمیر پر مظاہرہ

آخری وقت اشاعت:  پير 8 اکتوبر 2012 ,‭ 13:19 GMT 18:19 PST

کوڈن کلم جوہری پلانٹ تمل ناڈو کے ترنلویلی ضلع میں واقع ہے جہاں ایک ہزار میگاواٹ کے دو پلانٹ شروع ہونے والے ہیں۔

جنوبی بھارت میں ہزاروں افراد نے ایک زیر تعمیر جوہری بجلی گھر کی تعمیر کے خلاف مظاہرہ کیا۔

کوڈن کلم جوہری پلانٹ تمل ناڈو کے ترنلویلی ضلع میں واقع ہے جہاں ایک ہزار میگاواٹ کے دو پلانٹ تکمیل کے بعد کام شروع کریں گے۔

اس مظاہرے میں شریک افراد میں اکثریت ماہی گیروں اور مقامی گاؤں والوں کی تھی جو کشتیوں پر سوار ہوکر اس بجلی گھر کی مجوزہ جگہ سے پانچ سو میٹر کے فاصلے پر جمع ہوئے۔

بھاری تعداد میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو کڈن کلم میں زیر تعمیر اس بجلی گھر کے پاس تعینات کیا گیا تھا۔

اس بجلی گھر کی تعمیر کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس بجلی گھر کو ایسے علاقے میں تعمیر کیا جا رہا ہے جہاں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔

ان افراد کو خدشہ ہے کہ کہیں جاپان کے فوکو شیما کے بجلی گھر پر آنے والی تباہی جیسی صورتحال یہاں پیدا نہ ہو جائے۔

یہ بجلی گھر ایسے علاقے میں بنایا جا رہا ہے جو جنوب مشرقی ایشیا میں آنے والے دو ہزار چار کے سونامی سے بری طرح متاثر ہوا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بجلی گھر بہترین حفاظتی معیار پر پورا اترتا ہے۔

اس سال کے آغاز میں کڈن کلم جوہری پلانٹ کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کے الزام میں چار غیر ملکی غیر سرکاری تنظیموں کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔

مقامی لوگوں کے احتجاج کی وجہ سے كڈن كلم جوہری پلانٹ کا کام کافی متاثر ہوتا رہا ہے۔

بھارتی حکومت اس بجلی گھر کی تعمیر کو ملک کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کے پیش نظر اہم بتا رہی ہے۔

بھارت میں گزشتہ دہائی میں ہونے والی تیز رفتار ترقی نے ملک میں توانائی کی ضروریات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے جس سے نمٹنے کے لیے حکومت جوہری توانائی کو ایک ترجیح کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔