کرناٹک کا تمل ناڈو کو پانی دینے سے انکار

آخری وقت اشاعت:  منگل 9 اکتوبر 2012 ,‭ 08:31 GMT 13:31 PST

کرناٹک کے وزیرِ اعلیٰ جگدیش شیٹار

بھارتی ریاست کرناٹک نے عدالتی حکم عدولی کرتے ہوئے ایک متنازع دریا سے پڑوسی ریاست تمل ناڈو کو پانی کی فراہمی روک دی ہے۔

کرناٹک نے پیر کو رات گئے دریائے کاویری کا پانی روکنے کا فیصلہ کیا۔

سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کردہ ایک حالیہ حکم نامے کے بعد کرناٹک میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ اس حکم نامے میں ریاست سے کہا گیا تھا کہ وہ دریائے کاویری اتھارٹی کے حکم کے تحت پانی چھوڑے۔

دونوں جنوبی ریاستوں کا کہنا ہے کہ انھیں لاکھوں کسانوں کے لیے پانی کی ضرورت ہے۔

دریائے کاویری اتھارٹی، جس کے سربراہ وزیرِ اعظم منموہن سنگھ ہیں، کے حکم نامے میں یہ طے کر دیا گیا تھا کہ کرناٹک تمل ناڈو کے لیے پندرہ اکتوبر تک ہر روز نو ہزار کیوسک (مربع فٹ فی سیکنڈ) پانی چھوڑے گا۔

لیکن پیر کے روز کرناٹک کی ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ وہ پانی نہیں چھوڑ سکتی کیونکہ اس کے ذخائر میں کافی مقدار میں پانی موجود نہیں ہے۔

"ہم اس سے زیادہ پانی نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ حتمی فیصلہ ہے۔ پانی کی قلت ہے۔"

کرناٹک کے نائب وزیرِ اعلیٰ

کرناٹک کے نائب وزیرِ اعلیٰ کے ایس ایسواراپا نے کہا ’ہم اس سے زیادہ پانی نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ حتمی فیصلہ ہے، پانی کی قلت ہے۔‘

سیاسی رہنماؤں اور کسانوں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کرناٹک تمل ناڈو کو ’کمیاب پانی تقسیم کرنے کی بجائے قانونی عمل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

حکمراں جماعت بی جے پی کے رہنما سدانند گوڑا نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ جگدیش شیٹّار کو چاہیے وہ تامل ناڈو کو پانی دینے کی بجائے توہینِ عدالت کے الزام میں جیل چلے جائیں۔

کاویری کرناٹک سے نکل کر تمل ناڈو جاتا ہے۔ دونوں ریاستوں کے درمیان اس کے پانی پر تنازع انیسویں صدی میں برطانوی دورِ حکومت میں شروع ہوا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔