’انڈین مجاہدین کے تین ارکان گرفتار‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 11 اکتوبر 2012 ,‭ 07:42 GMT 12:42 PST
فائل فوٹو

دلی میں فیسٹیول کے موقعوں پر کئی بار بم دھماکے ہوچکے ہیں

بھارتی دارالحکومت نئی دلی میں پولیس نے شدت پسند گروپ انڈین مجاہدین سے وابستہ تین افراد کوگرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد دلی میں آنے والے تہواروں کے موقع پر بم دھماکہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

دلی پولیس کی سپیشل برانچ کا دعوی ہے کہ جن افراد کو گرفتار کیا گيا ہے وہ دو ماہ قبل پونے میں ہونے والے بم دھماکے میں بھی ملوث تھے۔

بھارتی خبر رساں ادارہ پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان گرفتاریوں کے نتیجے میں دہشت گردی کے ممکنہ حملوں کی روک تھام ہوئی ہے۔

پولیس نے ان تینوں افراد کی شناخت جاری نہیں کی ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ ان گرفتاریوں سے پونا بم دھماکے کا معاملہ حل ہوگيا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے گرفتار شدہ افراد کے پاس سے ہتھیار، بارود اور نقدی بر آمد کی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ان افراد کے تعلقات انڈین مجاہدین کے ایک اہم سرغنہ یسین بھٹکل سے رہے ہیں۔

تاہم ان افراد کو گرفتار کرنے والی دلی پولیس کی سپیشل برانچ پر یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ وہ دہشتگردی کے نام پر بےقصور نوجوانوں کو گرفتار کرتی رہی ہے۔

حال ہی میں عدالت نے ایسے کئي نوجوانوں کو بری کیا ہے اور پولیس کے خلاف کارروائی کی ہدایات دی تھیں۔

دلی میں حال ہی میں ایسے جیل سے رہا ہوئے افراد پر ایک کتابچہ شائع کیا گیا تھا جس کے اجراء کے موقع پر ملک کے سرکردہ سماجی کارکنان نے دلی پو کے سپیشل سیل کو بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

دلی پولیس ان الزامات سے انکار کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کارروائی کرتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔