حکومت اور کسانوں میں معاہدہ، مارچ ملتوی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 11 اکتوبر 2012 ,‭ 10:21 GMT 15:21 PST

اس مارچ میں مزدور، بے زمین کسان اور قبائلی شامل تھے

بھارت میں ہزاروں کی تعداد میں جو غریب کسان، مزدور، اور بے زمین قبائیلی دلی کی طرف اپنے مطالبات کے لیے مارچ کر رہے تھے ان میں اور حکومت میں ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔

مارچ کے منتظمین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حکومت کے ساتھ سمجھوتہ طے ہونے کے بعد اس مارچ کو ملتوی کر دیا گيا ہے۔

دلی سے دو سو کلو میٹر پہلے ہی آگرہ شہر میں دیہی ترقیات کے وزیر جے رام رمیش اور مارچ کے منتظمین کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کا اعلان خود مسٹر رمیش نے کیا۔

اس سے قبل ہزاروں کی تعداد میں انتہائی غریب قبائلیوں، مزدوروں اور بے زمین کسانوں نے زمینی اصلاحات کا مطالبہ منوانے کے لیے دارالحکومت دلی کی طرف مارچ کرنا شروع کیا تھا۔

مختلف ریاستوں کے یہ لوگ ریاست مدھیہ پردیش کے شہرگوالیار سے روانہ ہوئے تھے اور اٹھائیس اکتوبر کو انہیں دلی پہنچنا تھا لیکن دارلحکومت پہنچنے سے پہلے ہی حکومت نے ان سے بات چیت شروع کر دی تھی۔

اطلاعات کے مطابق حکومت نے ان کے بیشتر مطالبات تسلیم کر لیے ہیں لیکن اس سٹیج پر انہیں زیادہ تر یقین دلانے کی بات ہی کہی گئی ہے۔

مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات پر وہ ریاستی حکومتوں سے بات چیت کریگي اور اراضی اصلاحات سے متعلق قوانین کو نافذ کرنے کے لیے انہیں تیار کریگي۔

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے جو معاہدہ کیا ہے اس میں ٹھوس اقدامات سے زیادہ ہوائی باتیں ہیں۔

بدھ کے روز آگرہ جانے سے قبل جے رام رمیش نے اس مسئلے پر صحافیوں سے بات چیت میں کہا تھا کہ ’ملک کو تاج محل والے شہر سے خوش خبری ملے گی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ بے زمین کسانوں، مزدوروں اور قبائیلیوں کے جو مطالبات ہیں ان پر حکومت تعمیری نکتہ نظر سے غور کر رہی ہے۔

مارچ کرنے والے لوگ غیر سرکاری ادارے ایکتا پریشد کے پرچم تلے مارچ کر رہے تھے ۔ یہ تنظیم تقریباً دو دہائیوں سے ملک کے غریب ترین طبقات کو زمین کےمالکانہ حقوق دلوانے کی کوششیں کر رہی ہے کیونکہ اس کا دعوٰی ہے کہ ان لوگوں کو غریبی کے نرغے سے نکالنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جس زمین پر وہ رہتے ہیں یا کاشت کرتے ہیں اس کے مالکانہ حقوق انہیں کو دے دیے جائیں۔

بھارت میں زمینی اصلاحات ایک پیچیدہ اور حساس معاملہ ہے اور حکومت کی اس بارے میں کوئی واضح پالیسی بھی نہیں ہے۔ لیکن مظاہرین کو دلی آنے سے روکنے کے لیے وفاقی وزراء نے پہلے ہی سے مارچ کے منتظمین سے مذاکرات شروع کر دیے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔