بھارت: سماجی کارکن کیجری وال رہا

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 13 اکتوبر 2012 ,‭ 10:56 GMT 15:56 PST

انڈیا: کرپشن کے خلاف احتجاج

بھارت میں آج کل بدعنوانی کے خلاف آئے دن کوئی نا کوئی واقعہ سامنے آتا رہتا جس کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں بھی تیزی آرہی ہے۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

بھارت کے مرکزی وزیر قانون سلمان خورشید پر مبینہ بد عنوانی کے الزام کے سلسلے میں ان کے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی طرف جانے کی ضد کرنے پر جمعہ کو حراست میں لیے گئے اروند كیجري وال اور ان کے ساتھیوں کو سنیچر کی صبح رہا کر دیا گیا ہے۔

كیجري وال نے کہا کہ وہ جیل سے چھوٹنے کے بعد سیدھے پارلیمنٹ سٹریٹ جائیں گے اور وہ اس وقت تک وہاں دھرنے پر بیٹھے رہیں گے جب تک کہ مرکزی وزیر قانون سلمان خورشید استعفی نہیں دیتے۔

انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں پارلیمنٹ سٹریٹ پران کے ساتھ ساتھ دھرنے میں شریک ہوں۔

پی ٹی آئی کے مطابق كیجروال نے کہاکہ ’اس جگہ کو دوسرا تحریر چوک بنا دینا چاہیے۔ لوگوں کو چھٹی لے کر یہاں آنا چاہیے، یہ آر یا پار کی لڑائی ہے۔ وزیر اعظم کو ہم سے ملنا ہوگا خورشید کو استعفی دینا ہی ہوگا۔‘

اروند کیجری وال

اروند کیجری وال بدعنوانی کے خلاف مہم میں سرگرم ہیں۔

واضح رہے کہ اروند کیجری وال بدعنوانی کے خلاف جدوجہد میں ٹیم انّا کے ساتھ تھے اور اب وہ ملک میں بدعنوانی کے خلاف خود مہم چلا رہے ہیں۔

وزیر اعظم کی رہائش کی طرف ان کے مارچ کو درمیان میں ہی روک دیا گیا جس کے بعد كیجري وال اپنے حامیوں کے ساتھ دھرنے پر بیٹھ گئے اور انہیں اور ان کے ساتھیوں منیش سیسوديا اور گوپال رائے کو حراست میں لے لیا گیا۔

اس سے قبل ایک ٹی وی چینل نے الزام لگایا تھا کہ خورشید اور ان کی بیوی لوئس خورشید نے ایک این جی او کے ذریعے معذور لوگوں کے لیے اکھٹے کیے گئے پیسوں کا غلط استعمال کیا ہے۔

کیجری وال نے اس معاملے پر وزیر اعظم سے ملاقات کا وقت مانگا تھا لیکن وزیر اعظم کے دفتر کے حوالے سے بتایا گیا کہ وزیراعظم کا پروگرام ایک دن پہلے ہی طے ہو جاتا ہے اور ان کے پاس جمعہ کو ملنے کا وقت نہیں تھا۔

دوسرا تحریر سکوائر

"اس جگہ کو دوسرا تحریر چوک بنا دینا چاہیے. لوگوں کو چھٹی لے کر یہاں آنا چاہیے، یہ آر یا پار کی لڑائی ہے۔ وزیر اعظم کو ہم سے ملنا ہوگا خورشید کو استعفی دینا ہی ہوگا"

كیجري وال نے کہا کہ خورشید اور ان کی بیوی بااثر لوگ ہیں اور ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر سکتے ہیں، اس لیے دونوں کو گرفتار کر لیا جانا چاہیے۔

سلمان خورشید نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عدالت میں اور لوگوں کے سامنے بھی اس معاملے پر براہ راست بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اس سے قبل اروند كیجري وال نے گزشتہ ہفتے دلی میں کچھ دستاویزات پیش کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ شمالی بھارت کی ایک بڑی ریئل اسٹیٹ کمپنی ڈي ایل ایف گروپ نے غلط طریقوں سے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کو تین سو کروڑ روپے کی پراپرٹی كوڑيوں کے داموں بیچی ہے۔

کانگریس نےان الزامات کی سختی کے ساتھ تردید کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔