بھارت: بی جے پی صدر پر بدعنوانی کا الزام

آخری وقت اشاعت:  بدھ 17 اکتوبر 2012 ,‭ 16:05 GMT 21:05 PST
اروند کیجریوال

اروند کیجریوال بدعنوانی کے خلاف مہم میں پیش پیش ہیں۔

بھارت میں بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والی تنظیم ’انڈیا اگینسٹ کرپشن‘ نے بھارتی جنتا پارٹی بی جے پی کے صدر نتن گڈکری پر الزام لگایا ہے کہ ان کا کاروبار کسانوں کی قیمت پر پھل پھول رہا ہے۔

واضح رہے کہ اب تک اس تنظیم کا نشانہ برسراقتدار کانگریس پارٹی تھی لیکن پہلی بار اس نے بی جے پي کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس کے بعد نتن گڈکری نے بھی صحافیوں سے بات کی اور تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے اسے کانگریس کی چال قرار دیا۔

بدعنوانی کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے والی تنظیم کے رکن اور سماجی کارکن اروند کیجریوال نے کہا کہ ’نتن گڈکری کا کاروبار کسانوں کی قیمت پر پھل پھول رہا ہے۔‘

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے علاقے ودربھ کے انمید تعلقے میں گھرساپور گاؤں کا حوالہ دیتے ہوئے كیجريوال نے کہا کہ وہاں کے کسانوں کی اڑتالیس ہیکٹر یعنی قریب ایک سو بیس ایکڑ زمین کو مہاراشٹر حکومت نے کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے نتن گڈکری کو سونپ دی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ جو بندھ کسانوں کو پانی دینے کے لیے بنایاگیا تھا اس کا پانی نتن گڈکری اور دیگر لوگوں کی کمپنیوں کو دیا جا رہا ہے۔

حالانکہ ٹیم كیجريوال اس سوال کا براہ راست کوئی جواب نہیں دے پائی کہ گڈکری کی تنظیم کو زمین دیے جانے کے معاملے میں لین دین کہاں ہوا۔

معاملہ اخلاقیات کا ہے

"اس میں غلطی دو طرح کی ہوئی ہے۔ ایک قانونی طور پر غلطی یہ ہے کہ زمین کا حصول عوامی کام کے لیے کیا گیا تھا، اس لیے اسے کسی شخص یا نجی کمپنی کو اسے نہیں دیا جا سکتا ہے۔ دوسرا معاملہ اخلاقیات کا ہے کہ آپ کسانوں کی زمین چھين كر اس پر خود کاشت کر رہے ہیں"

پرشانت بھوشن

بدعنوانی کی روک تھام کے لیے لوک پال قانون کی تحریک شروع کرنے کے بعد اب حال ہی میں سیاست کے میدان میں اترنے والے اروند كیجريوال نے کہا کہ گاؤں میں ڈیم بنانے کے لیے زمینیں حاصل کی گئی تھیں لیکن ڈیم تیار ہونے کے بعد بھی کافی زمین بچ گئی جسے کسان واپس لے کر کھیتی کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے، لیکن انتظامیہ نے زمین کا بڑا حصہ نتن گڈکری کی تنظیم کو سونپ دیا۔

دلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اروند كیجريوال نے کہا کہ ’بغیر یہ سوچے کہ یہ زمین کسانوں کی ہے، جن کے پاس روزی روٹی کا واحد یہی ذریعہ ہے، نتن گڈکری نے مہاراشٹر حکومت کے وزیر اجیت پوار کو خط لکھا جن کی ایما پر بی جے پی صدر کو وہ زمین مل گئی جس پر وہ کھیتی کر رہے ہیں۔‘

كیجريوال کا کہنا ہے کہ پہلے گڈکری کی تنظیم کو سینتیس ہیکٹر زمین دی اور بعد میں مزید گیارہ ہیکٹر زمین دی گئی۔

بعد میں جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ اس میں آخر غلط کیا ہے تو كیجريوال کی سیاسی پارٹی کے ساتھی اور مشہور وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ ’اس میں دو طرح کی غلطیاں ہوئی ہیں۔ قانونی طور پر ایک غلطی یہ ہے کہ زمین عوامی کام کے لیے حاصل کی گئی تھی، اس لیے اسے کسی شخص یا نجی کمپنی کو نہیں دیا جا سکتا۔ دوسرا معاملہ اخلاقیات کا ہے کہ آپ کسانوں کی زمین چھين كر اس پر خود کاشتکاری کر رہے ہیں۔‘

پرشانت بھوشن نے پوچھا کہ جس پارٹی کا صدر خود اپنے کاروباری منافع کے لیے کسانوں کا حق مار رہا ہو وہ ان پر ہو رہی زیادتیوں کے خلاف آواز کیسے اٹھائے گا؟

اروند كیجريوال نے دعویٰ کیا کہ سیاستدانوں، نجی کمپنیوں اور ٹھیکیداروں کی ملی بھگت اور لوٹ کا ہی نتیجہ ہے کہ ودربھ میں کسان بڑی تعداد میں خود کشی کر رہے ہیں۔

دوسری جانب كیجريوال کی ٹیم کے الزامات کا جواب دینے کے لیے بی جے پی صدر نتن گڈکری خود صحافیوں کے سامنے آئے اور انہوں نے تمام الزامات کی تردید کی۔

انہوں نے کہا کہ ’حکومت پر لگے بدعنوانی کے الزامات کے بعد حزب اختلاف کو جو زمین ملی ہے وہ اسے نہ ملے اور اپوزیشن جماعتوں کے ووٹ بٹ جائیں یہ کانگریس کی سازش اور چال ہے اور یہ لوگ اسی پر کام کر رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔