بھارت چین جنگ میں ایک شہر اجڑ گیا

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 20 اکتوبر 2012 ,‭ 15:01 GMT 20:01 PST
تیزپور

بھارت چین جنگ میں تیز پور پوری طرح سے خالی ہو گیا تھا۔

انیس سو باسٹھ کی بھارت چین جنگ پر سب سے زیادہ حسب حال سرخی ’دی لندن اكونومسٹ‘ نے لگائی تھی۔

’جب جنگ کے بادل چھٹے تو چینی ہر جگہ موجود تھے۔ اٹھارہ نومبر کی آمد سے قبل ہی سیلا بغیر کسی جنگ کے چينيوں کے ہاتھ میں جا چکا تھا۔‘

افواہوں کا بازار گرم تھا۔ ایسی باتیں کی جا رہی تھیں کہ بھارت کی چوتھی کور کو گوہاٹی جانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ فوجیوں کے قافلے مغرب کی جانب بڑھ رہے تھے۔ آسام کے علاقے تیز پور کو خالی کرنے کے لیے کہہ دیا گیا تھا اور ننمتی میں قائم تیل صاف کرنے کے کارخانے کو دھماکے سے اڑائے جانے کی بھی خبر گرم تھی۔

تیزپور کے کمشنر کا کوئی سراغ نہیں تھا، وہ خوفزدہ ہوکر بھاگ چکے تھے۔ آسام حکومت نے رانا کے ڈی این سنگھ سے کہا تھا کہ وہ متزلزل انتظامیہ کی باگ ڈور سنبھالیں۔

تیزپور کے شہریوں کو کشتی سے مغربی ساحل کی جانب لے جایا جا رہا تھا۔ زیادہ تر خاندان ایک دو سوٹ كیسوں اور چھوٹے چھوٹے بکسوں میں جتنا سامان بھر سکتے تھے، بھر کر بھوماراگڑي ساحل کی طرف بڑھ رہے تھے تاکہ وہ برہمپتر ندی سے پار اتر کر جنوبی آسام کی طرف بڑھ سکیں۔

کچھ خاندان تو شدید سردی میں کھلے آسمان کے نيچے میں رات گزارنے پر مجبور تھے تاکہ دوسرے دن صبح سویرے ہی ان کا نمبر آ جائے۔

ایک ہی مقصد

"ان کا ایک ہی مقصد تھا کہ کسی طرح کلکتہ پہنچا جائے۔ اس ہجرت میں کشتیوں کے علاوہ کاروں، بسوں، سائیکلوں اور بیل گاڑيوں تک کا سہارا لیا جا رہا تھا۔ کچھ لوگ تو پیدل ہی اپنے گھروں سے نکل پڑے تھے"

برہمپترہ ندی کے شمالی کنارے پر رہنے والے زیادہ تر انگریز چائے باغات کے مالکان نے اپنی جائیداد اپنے ماتحتوں اور كلركوں کے حوالے کر دی تھی۔ اپنے پالتو جانوروں کو وہ یا تو لوگوں میں تقسیم کر رہے تھے یا پھر انہیں گولی مار رہے تھے۔

ان کا ایک ہی مقصد تھا کہ کسی طرح کلکتہ پہنچا جائے۔ اس ہجرت میں کشتیوں کے علاوہ کاروں، بسوں، سائیکلوں اور بیل گاڑيوں تک کا سہارا لیا جا رہا تھا۔ کچھ لوگ تو پیدل ہی اپنے گھروں سے نکل پڑے تھے۔

رانا لاؤڈ سپیکروں سے بار بار اعلان کر رہے تھے کہ وہ شام چھ بجے جنوبی کنارے جانے والی آخری کشتی پر سوار ہوں گے اور بچے ہوئے لوگوں کے لیے ندی پار کرنے کا یہ آخری موقع ہوگا۔

تیزپور ایک آسیب زدہ شہر دکھائی دے رہا تھا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنے یہاں رکھی ساری رقم میں آگ لگا دی تھی اور جزوی طور پر جلے نوٹوں کے ٹکڑے ہوا میں اڑ رہے تھے۔

سکوں کو پاس کے تالاب میں پھینک دیا گیا تھا۔

انتظامیہ نے ذہنی مریضوں کے لیے ہسپتال کے تالے کھول دیئے تھے اور بیس تیس ذہنی مریض شہر میں یہاں وہاں گھوم رہے تھے۔

ان سرکاری دستاویزات میں بھی آگ لگائی جا رہی تھی جسے چینیوں کے پڑھنے کا خدشہ تھا۔

تیزپور میں بھارتی فوجی

تیز پور ایک آسیب زدہ شہر نظر آ رہا تھا۔

ملک سے اپنے خطاب میں وزیر اعظم جواہر لعل نہرو آسام کے لوگوں کے تئیں اپنی ہمدردی کا اظہار کر رہے تھے۔ شمال مشرق میں رہنے والے لوگ نہرو کی اس تقریر کا ذکر کرتے ہوئے ابھی تک یہ کہتے ہیں کہ جکومت ہند نے تو انہیں اسی وقت الوداع کہہ دیا تھا۔

انیس نومبر کی صبح تیزپور میں ایک پتہ تک نہیں ہل رہا تھا، لگتا تھا جیسے سب کچھ ایک جگہ پر رک گیا تھا۔ خوش قسمتی سے چینی تیزپور سے پچاس کلو میٹر پہلے ہی رک گئے تھے۔

نیس نومبر کی نصف شب میں چینی ریڈیو سے اعلان کیا گیا کہ چین نے فوری طور پر یک طرفہ جنگ بندی کر دی ہے بشرطیہ بھارتی فوج بھی اس پر عمل کرے۔

آکاشوانی یعنی آل انڈیا ریڈیو بیس نومبر کی صبح کے بلیٹن میں بھی سرحدوں پر بھارتی فوج کی بہادری سے لڑنے کی خبریں نشر کر رہا تھا۔ کسی نے بھی تھک کر سوئے ہوئے وزیر اعظم کو جگا کر چین کی اس نئی پیشکش کے بارے میں بتانے کی جرات نہیں کی تھی۔

یہ ایک المیہ ہی تھا کہ چاہے وہ فوجی جوان ہو یا جنرل سب کے سب یہ جاننے کے لیے پيكنگ ریڈیو کا سہارا لے رہے تھے کہ جنگ کے میدان میں ان کا اپنا کیا حال ہے۔

اکیس نومبر تک تیزپور میں زندگی آہستہ آہستہ معمول پر آ رہی تھی۔ وزیر داخلہ لال بہادر شاستری لوگوں کی امید بڑھانے وہاں پہنچے تھے۔ دو دنوں کے بعد اندرا گاندھی نے بھی وہاں کا دورہ کیا تھا اور اس کے بعد ضلع انتظامیہ کے افراد بھی رفتہ رفتہ وہاں پہنچنے شروع ہو گئے تھے۔

سیلا اس وقت بھارت کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کا حصہ ہے جسے جنگ کے خاتمے کے بعد چینیوں نے واپس کردیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔