موت کے بعد بھی ترقی پانے والا فوجی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 21 اکتوبر 2012 ,‭ 03:48 GMT 08:48 PST

جسونت سنگھ کے مارے جانے کے بعد بھی ان کے نام کے ساتھ آنجہانی کا لفظ نہیں لکھا جاتا۔

انہیں صبح ساڑھے چار بجے ’بیڈ ٹی‘ پیش کی جاتی ہے، نو بجے ناشتہ اور شام سات بجے رات کا کھانا بھی ملتا ہے۔

چوبیس گھنٹے ان کی خدمت میں بھارتی فوج کے پانچ جوان لگے رہتے ہیں۔ ان کا بستر لگایا جاتا ہے، جوتوں پر باقاعدہ پالش ہوتی ہے اور وردی بھی استری کی جاتی ہے۔

اتنی آرام طلب زندگی ہے جسونت سنگھ راوت کی، لیکن آپ کو یہ جان کر عجیب لگے گا کہ وہ اس دنیا میں موجود نہیں ہیں۔

رائفل مین جسونت سنگھ ہندوستانی فوج کے سپاہی تھے، جو 1962 میں نورارگ کی لڑائی میں مارے گئے تھے۔ انہیں ان کی بہادری کے لیے بعد از مرگ مہاویر چکر کے اعلیٰ فوجی اعزاز سے نوازا گیا تھا۔

جنگ کے دوران جب چینی فوج نے ان کی دس ہزار فٹ کی بلندی پر واقع چوکی پر حملہ کیا تو وہ تقریباً بہّتر گھنٹے تک اکیلے مقابلہ کرتے رہے اور جب انہیں لگا کہ چینی انہیں قیدی بنا لیں گے تو انہوں نے آخری گولی سے خود کو نشانہ بنا لیا۔

اس کی شجاعت سے مخالف فوج کا کمانڈر اتنا متاثر ہوا کہ لڑائی ختم ہو جانے کے بعد اس نے جسونت سنگھ کی یادگاری تخت بنوا کر بھارتی فوج کے حوالے کی آج بھی ان کی یادگار میں نصب ہے۔

جسونت سنگھ نے 72 گھنٹے تک چینی فوج کا مقابلہ کیا

جس مقام پر انہوں نے مورچہ سنبھالا تھا وہاں پر ان کی یاد میں ایک مندر بنایا گیا ہے جہاں پر ان کے استعمال کی جانے والی زیادہ تر چیزیں رکھی گئی ہیں۔

اس راستے سے گزرنے والا چاہے جنرل ہو یا جوان، انہیں خراج عقیدت پیش کیے بغیر آگے نہیں بڑھتا۔ جسونت سنگھ کے مارے جانے کے بعد بھی ان کے نام کے ساتھ آنجہانی کا لفظ نہیں لکھا جاتا۔

وہ ہندوستانی فوج کے واحد فوجی ہیں جنہیں موت کے بعد ترقی ملنا شروع ہوئی۔ پہلے لیفٹیننٹ پھر کیپٹن اور اب وہ میجر جنرل کے عہدے پر پہنچ چکے ہیں۔

ان کے خاندان والے جب ضرورت ہوتی ہے، ان کی طرف سے چھٹی کی درخواست دیتے ہیں۔ جب چھٹی منظور ہو جاتی ہے تو فوج کے جوان ان کی تصویر کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ اتراکھنڈ میں واقع ان کے آبائی گاؤں لے جاتے ہیں اور جب ان کی چھٹی ختم ہو جاتی ہے تو اس تصویر کو واپس اس کے اصل مقام پر لے جایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔