بھارت میں عصمت دری عام کیوں؟

آخری وقت اشاعت:  اتوار 21 اکتوبر 2012 ,‭ 14:52 GMT 19:52 PST
کھاپ پنچایت

ہریانہ میں گذشتہ سال عصمت دری کے سات سو تینتیس واقعات درج ہوئے۔

بھارت کے دارالحکومت دلی سے متصل ریاست ہریانہ کا ایک روایتی گاؤں ڈبرا ہے جس کی گلیاں تنگ ہیں اور کھلی نالیاں ہیں وہاں کے مکانات اینٹ اور گارے کے بنے ہوئے ہیں۔

بچے دھول میں کھیلتے ہیں اور مرد کنارے بیٹھے بیڑی اور حقہ پیتے رہتے ہیں۔

حالانکہ اس غریب کسان قصبے میں زیادہ لوگ باہر سے نہیں آتے ہیں لیکن ایک مکان کے باہر دو پولیس والے پہرے پر کھڑے ہیں اور اندر ایک سولہ سالہ لڑکی بیٹھی ہے۔ اس کے گرد کئی دوسری خواتین موجود ہیں۔

اس لڑکی کے لیے ہی وہاں پولیس کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

چھہ ہفتے قبل وہ گلیوں سے گزرتی ہوئی کام پرجا رہی تھی جب کچھ لوگوں نے اس کا اغواء کر لیا تھا۔

اس نے کسی قسم کے احساسات کا اظہار کیے بغیر سپاٹ لہجے میں کہا کہ ’وہ لوگ مجھے گھسیٹ کر کار میں لے گئے اور میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی او مجھے ندی کے کنار ے لے گئے اور سات لوگوں نے باری باری میری عصمت دری کی اور باقی دیکھتے رہے۔‘

اس کی مصیبت وہیں ختم نہیں ہوئی۔ ان لوگوں نے اس واقعے کو اپنے موبائل فون پر ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کیا اور اس سخت گیر سماج میں اسے پھیلا دیا۔

لڑکی کے چچازاد بھائی نے کہاکہ’ان کے والد نے شرم کے مارے زہر کھا لیا۔ ہم لوگ انہیں ہسپتال لے گئے لیکن اس وقت تک کافی دیر ہو چکی تھی اور ہم انہیں نہی بچا سکے۔‘

اب تک نو مبینہ حملہ آور اور اغوا کرنے والے گرفتار ہو چکے ہیں لیکن ابھی بھی کچھ لوگ فرار ہیں۔

پنچایت کے فیصلے

"یہ لوگ عام طور پر کنگارو عدالت کی طرح فیصلے کرتے ہیں، سماج کے لیے قانون بناتے ہیں جس میں یہ ہوتا ہے کہ خواتین کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں اور انہیں کیسے برتاؤ کرنا چاہیے"

سماجی کارکن، رجنی کماری

گذشتہ سال ہریانہ میں عصمت دری کے سات سو تینتیس واقعات درج ہوئے لیکن بہت سے واقعات درج ہونے سے رہ جاتے ہیں۔

خواتین کے خلاف پورے بھارت میں عصمت دری اور جنسی استحصال کے واقعات ہوتے ہیں لیکن ہریانہ ان میں الگ اس لیے ہے کہ وہاں سماج کا رویہ اس کے تئیں مختلف ہے۔

بھارت کے دارالحکومت دلی کے قریب اس علاقے میں ابھی بھی مردوں کی اجارہ داری ہے۔ دیہی ضلع جند میں ایک گاؤں کی ایک پنچایت جاری ہے۔

ایک بڑے سے ہال میں معمر حضرات چارپائی پر بیٹھے حقہ پی رہے ہیں اور ان میں کوئی بھی خاتون نہیں ہے۔

جیسا کہ صدیوں سے ہوتا آیا ہے وہ لوگ سماجی امور، خواتین اور حالیہ عصمت دری پر فیصلہ دیں گے۔

گاؤں کے ایک بزرگ سریش کوتھ نے کہاکہ’میں آپ کو عصمت دری کی اصل وجہ بتاتا ہوں۔ آپ دیکھیں اخباروں اور ٹیلی ویژن پر کیا دکھایا جا رہا ہے۔ نصف عریاں خواتین۔ یہ چیزیں ہیں جو ہمارے بچوں کو خراب کر رہی ہیں۔ آخر کار یہ بھارت ہے کوئی یورپ تو نہیں۔‘

کھاپ پنچایت

کھاپ پنچایت مردوں کا غیر منتخب ادارہ ہے لیکن جو سماج پر اپنے فیصلے صادر کرتا ہے۔

ایسی تنقید بھی ہو رہی تھیں جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کھاپ برادری پنچایت ہے جس میں سارے مرد ہیں اور یہ سماجی اور سیاسی طور کافی مضبوط ہیں۔

خواتین کے حقوق کی کارکن اور ریسرچر رجنی کماری کا کہنا ہےکہ’یہ لوگ عام طور پر کنگارو عدالت کی طرح فیصلے کرتے ہیں، سماج کے لیے قانون بناتے ہیں جس میں یہ ہوتا ہے کہ خواتین کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں اور انہیں کیسے برتاؤ کرنا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ’اگر لوگ ان کے فیصلے نہیں مانتے تو وہ انھیں دھمکاتے ہیں اور ان پر تشدد کرتے ہیں جن میں آنر کلنگ یعنی عزت کے لیے قتل بھی شامل ہے۔‘

واضح رہے کہ کھاپ غیر منتخب ادارہ ہے لیکن حکومت ان پر بات کرنے سے گریزاں ہے کیونکہ یہ ووٹ حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔

واضح رہے کہ کھاپ نے حال میں لڑکیوں کی جلدی شادی کرنے کی بات کہی ہے تاکہ انہیں عصمت دروں سے بچایا جا سکے۔ دوسرے لوگ اس کا ذمہ دار مغربی اثرات کو مانتے ہیں۔

عصمت دری کا شکار ڈبرا کی لڑکی نے کہا کہ لڑکیوں نے اس واقعے کے بعد ڈر سے سکول جانا چھوڑ دیا ہے اور وہ بہت زیادہ خوفزدہ ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔