دلی ایئر پورٹ سے فصیح محمود گرفتار

آخری وقت اشاعت:  پير 22 اکتوبر 2012 ,‭ 09:27 GMT 14:27 PST
فصیح محمود

فصیح محمود بھارت کی ریاست بہار کے رہنے والے ہیں۔

سعودی عرب کی جیل میں کئی ماہ سے قید بھارتی شہری فصیح محمود کو بھارت کے حوالے کر دیا گيا ہے جنھیں پیر کی صبح دلی پہنچتے ہی پولیس نے شدت پسندی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

بھارتی سکیورٹی اداروں کا الزام ہے کہ فصیح محمد بنگلور اور دلی کے بم دھماکوں میں ملوث رہے ہیں لیکن ان کی بیوی نکہت پروین اور دیگر اہل خانہ ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے رہے ہیں۔

اٹھائیس برس کے فصیح محمود پانچ ماہ سے سعودی عرب کی جیل میں قید تھے اور بھارت نے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا۔

بھارت کا دعوی ہے کہ فصیح محمد بھارتی شدت پسند تنظیم ’انڈین مجاہدین‘ کے سرگرم رکن ہیں۔

اس سے پہلے فصیح کی اہلیہ نکہت پروین نے بھارتی حکومت پر الزام لگایا تھا کہ ان کے شوہر کو بھارتی ایجنسیوں نے تحویل میں لے رکھا ہے اور انہوں نے عدالت عظمی میں حسب بےجا کی ایک درحواست دائر کی تھی۔

اس کے جواب میں حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ سعودی عرب میں مقیم بھارتی شہری فصیح محمود سعودی عرب کی ایک جیل میں قید ہیں اور انھیں ملک واپس لانا ایک پیچیدہ عمل ہے۔

حکومت نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا کہ فصیح محمود کو بھارتی پولیس نے غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں لے رکھا ہے۔

فصیح محمود کا تعلق ریاست بِہار سے ہے اور پیشے کے اعتبار سے وہ انجینیئر ہیں۔ وہ سعودی عرب میں پانچ سال سے ملازمت کر رہے ہیں۔

ان کی اہلیہ نکہت پروین کے مطابق انہیں تیرہ مئی کو سعودی عرب کے شہر جبیل میں ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کے مطابق جو اہلکار ان کے گھر پر آئے تھے ان میں دو بھارتی اہلکار بھی شامل تھے۔

فصیح محمود کی اکیس سالہ اہلیہ نکہت پروین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے شوہر بے قصور ہیں اور یہ حقیقت جلد ہی سامنے آئے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔