کشمیر : 22 اکتوبر کا بیج بہاڑہ قتل عام

آخری وقت اشاعت:  پير 22 اکتوبر 2012 ,‭ 11:00 GMT 16:00 PST

پولیس کے خوف سے لوگ اب کم جمع ہوتے ہیں

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر سے جنوب کی جانب پچپن کلومیٹر کی دُوری پر ایک چھوٹا سا قبرستان ہے۔ بیج بہاڑہ قصبے میں واقع اس قبرستان میں قصبے کے وہی پینتالیس نوجوان دفن ہیں جو اُنیس سال قبل ایک ہندمخالف احتجاجی جلوس میں شریک تھے۔

یہ مظاہرہ سرینگر کی خانقاہ حضرت بل کے فوجی محاصرے کے خلاف کیا جا رہا تھا۔ پینتیس سالہ مسعود احمد بائیس اکتوبر اُنیس سو ترانوے کے روز اسی جلوس میں شامل تھے۔

وہ کہتے ہیں: ’ہم نعرے لگا رہے تھے کہ درگاہ کا محاصرہ ختم کرو۔ اتنے میں بی ایس ایف کے اہلکاروں نے تین اطراف سے فائرنگ کی۔ بچاؤ بچاؤ کی آوازیں آ رہی تھیں۔ لیکن ہم بھاگ نکلے۔‘

مسعود کہتے ہیں کہ انہیں بعد میں پتہ چلا کہ ان کے تین قریبی دوست اور دو ہم جماعت اس فائرنگ میں مارے گئے۔

مسعود کے دل و دماغ پر اس واقعہ کا گہرا اثر پڑا۔ صرف تین ہفتے بعد وہ قصبے میں مظاہرہ کر رہے تھے کہ فورسز نے ان کا تعاقب کیا اور دریائے جہلم کے کنارے ان پر فائرنگ کی گئی۔ ان کی جان تو بچ گئی لیکن ان کی ٹانگ ناکارہ ہوگئی۔

بائیس اکتوبر کو ان ہلاکتوں کی برسی کے موقعے پر مسعود بیج بہاڑہ کے قبرستان میں گنتی کے چند لوگوں کے ہمراہ فاتح پڑھنے پہنچے۔

"پولیس نے مخبروں کا جال بچھایا ہوا ہے۔ جو لڑکا معمولی سرگرمی کرتا ہے اسے رات کے دوران گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ لڑکے آنا چاہتے ہیں، لیکن پولیس کے انتقام سے ڈرتے ہیں۔ اب وہ لوگ انٹرنیٹ پر اپنے جذبات کا مظاہرہ کرتے ہیں۔"

مسعود

کیا لوگ ان واقعات کو بھول گئے ہیں؟ مسعود کہتے ہیں نہیں۔ ’پولیس نے مخبروں کا جال بچھایا ہوا ہے۔ جو لڑکا معمولی سرگرمی کرتا ہے اسے رات کے دوران گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ لڑکے آنا چاہتے ہیں، لیکن پولیس کے انتقام سے ڈرتے ہیں۔ اب وہ لوگ انٹرنیٹ پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔‘

بیج بہاڑہ میں سو سے زائد ایسے خاندان ہیں جو بائیس اکتوبر کے سانحہ سے متاثر ہوئے۔ وہ اب الگ الگ سطح پر ہی ان کی برسی کا اہتمام کرتے ہیں۔ سولہ سالہ جاوید احمد وازہ کی ماں وازہ بیگم کہتی ہیں: ’وہ گھر سے نئے کپڑے پہن کر نکلا، واپس لوٹا تو خون میں لت پت تھا اور پانی مانگ رہا تھا۔ وہ میری آنکھوں کے سامنے انتقال کر گیا۔‘

میرا بیٹا گھر سے نئے کپڑے پہن کر نکلا۔ واپس پہنچا تو خون میں لت پت تھا: وازہ بیگم

وہ کہتی ہیں کہ انہیں امداد کی شکایت نہیں ہے۔ ’ہماری بیٹی کو سرکاری نوکری دی گئی، لیکن میں میرا بیٹا کہا سے لاؤں۔‘

کشمیر کی حکومت کہتی ہے کہ ’لوگ ترقی چاہتے ہیں، وہ بجلی، پانی، سڑک اور روزگار چاہتے ہیں۔ لیکن علیٰحدگی پسند ہلاکتوں پر سیاست کرنا چاہتے ہیں۔‘

لیکن علیٰحدگی پسندوں کا دعویٰ ہے کہ یہاں کی اکثریت ان کے مؤقف کی حامی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو گرفتاریوں اور دوسری انتقامی کاروائیوں کا ڈر ہے اسی لیے وہ اب مارے گئے لوگوں کی برسیوں پر جمع نہیں ہوتے۔

بیج بہاڑہ کے ہی رہنے والے عاشق حسین زرگر نے بتایا کہ ہر سال بائیس اکتوبر سے کچھ روز قبل ہی پولیس یہاں کے نوجوانوں پر کڑی نظر رکھتی ہے۔

’قبرستان کے گردونواح میں سول کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار گشت کرتے ہیں۔ اس ماحول میں آپ کہتے ہیں کہ برسی کے موقعہ قبرستان سنسان ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔