مودی سے برطانوی ہائی کمیشنر کی ملاقات

آخری وقت اشاعت:  پير 22 اکتوبر 2012 ,‭ 07:30 GMT 12:30 PST

مسلم مخالف فسادات کے لیے مودی پر نکتہ چینی ہوتی رہی ہے

بھارتی ریاست گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کے ساتھ ایک دہائی تک لاتعلقی کے بعد روابط بحال کرنے کے لیے بھارت میں برطانوی ہائي کمیشنر نے ان سے ملاقات کی ہے۔

برطانوی ہائي کمشنر جیمز بیون نریندر مودی سے ملاقت کے لیے احمد آباد گئے ہیں۔ ملاقات کے دوران دونوں کے درمیان تقریباً بیس منٹ تک بات چیت ہوئی۔

نریندر مودی پر سنہ دو ہزار دو کے دوران گجرات میں مذہبی فسادات کو ہوا دینے کا الزام لگتا رہا ہے جس میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس میں سے بیشتر مسلمان تھے۔

ان فسادات کے بعد برطانیہ اور بعض دیگر مغربی ممالک نے نریندر مودی سے رابطے معطل کر دیے تھے جنہیں ایک عشرے کے بعد بحال کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔

پیر کی صبح برطانوی ہائی کمیشنر نے نریندر مودی کے دفتر میں ان سے ملاقات کی اور اطلاعت کے مطابق انھوں نے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے ان کے نام ایک خط بھی دیا۔

گجرات میں کئی برطانوی کمپنیوں نے سرمایہ کاری کی ہے اور اس دوران جیمز بیون ان کمپنیوں کے نمائندوں سے بھی ملیں گے۔

سنہ دو ہزار دو کے گجرات فسادات کے دوران تین برطانوی شہری بھی ہلاک ہوئے تھے۔ نریندر مودی پر الزام ہے کہ فسادات کے دوران انہوں نے جانب داری سے کام لیا اور مسلمانوں کے جان و مال کے تحفظ کو دانستہ طور پر نظر انداز کر دیا تھا۔

"دلی میں سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ برطانیہ کو اب یہ لگنے لگا ہے کہ دو ہزار چودہ میں حزب اختلاف کے اقتدار میں آنے پر مودی حکومت کی کمان سنبھال سکتے ہیں اس لیے پہلے سے رابطے بحال کرنا اس کے حق میں ہے۔"

مودی ان الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں اور فسادات کی تفتیش کرنے والے کمیشن نے بھی انھیں ان سے بری کر چکے ہیں۔

نریندر مودی کا شمار حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں میں ہوتا ہے جنھوں نے بطور وزیر اعلیٰ ریاست کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

آج کل وہ انتخابات کی مہم میں مصروف ہیں اور دسمبر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں تیسری بار ان کی کامیابی کی توقع کی جارہی ہے۔

اگر وہ اس میں کامیاب ہوئے تو امکان اس بات کا ہے کہ وہ بی جے پی کی طرف سے آئندہ پارلیمانی انتخابات میں وزارت عظمی کے امید وار ہوں گے۔

موجودہ برطانوی حکومت کا موقف ہے کہ مودی کے بائيکاٹ سے بہتر ان سے رابطہ بحال کرنا ہے تاکہ وہ ریاست کی معاشی ترقی سے بھی مربوط ہوسکے۔

دلی میں سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ برطانیہ کو اب یہ لگنے لگا ہے کہ دو ہزار چودہ میں حزب اختلاف کے اقتدار میں آنے پر مودی، حکومت کی کمان سنبھال سکتے ہیں، اس لیے پہلے سے رابطے بحال کرنا اس کے حق میں ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اور فسادات کے دوران مارے گئے برطانوی شہریوں کے اہل خانہ کی جانب سے برطانوی حکومت کے اس فیصلے پر سخت نکتہ چینی ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔