دیوبند کے سابق مہتمم اور بی جے پی میں رسہ کشی

آخری وقت اشاعت:  منگل 23 اکتوبر 2012 ,‭ 10:55 GMT 15:55 PST
غلام محد وستانوی

مولانا وستانوی کو مودی کی تعریف کرنے کے الزام میں دیوبند کے مہتمم سے ہٹا دیا گيا تھا

بھارتی ریاست گجرات کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے دارالعلوم دیو بند کے سابق مہتمم غلام محمد وستانوی کےگجرات میں داخلے پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

بی جے پی کا کہنا ہے کہ مولانا وستانوی نے ریاست کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے خلاف اشتعال انگیز بیان دیا ہے اس لیے انہیں گجرات نہ آنے دیا جائے۔

ریاست میں اس وقت اسمبلی انتخابات کی مہم زوروں پر ہے اس لیے پارٹی نے غلام محمد وستانوی کے خلاف انتخابی کمیشن سے شکایت کی ہے۔

گزشتہ برس کی ہی بات ہے مودی کی اقتصادی ترقی کی پالیسیوں کی تعریف کرنے پر مولانا غلام محمد وستانوی کو دیوبند کے مہتمم کے عہدے سے بر طرف کر دیا گیا تھا۔

احمد آباد میں بی جے پی کے میڈیا انچارج جگدیش بھاؤسار نے کہا کہ سورت شہر میں کانگریس پارٹی کے اقلیتی سیل نے جو پروگرام کیا تھا اس میں وستانوی کا بیان اشتعال انگیز اور پر امن فضا کے منافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ’ہم نے اس بارے میں انتخابی کمیشن سے شکایت کی ہے کہ وستانوی کو گجرات میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ مولانا وستانوی نے مختلف برادریوں میں فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے اور ریاست کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کے لیے کانگریس پارٹی کے پلیٹ فارم استعمال کیا ہے۔''

"ہم نے اس بارے میں انتخابی کمیشن سے شکایت کی ہے کہ وستانوی کو گجرات میں داخل نا ہونے دیا جائے۔ مولانا وستانوی نے مختلف برادریوں میں فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے اور ریاست کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کے لیے کانگریس پارٹی کے پلیٹ فارم استعمال کیا ہے۔"

جگدیش بھاؤسار نے مزید کہا کہ وستانوی کے نریندر مودی کے خلاف غلط الفاظ کا استعمال انتخابی ضابطہ اخلاف کے منافی ہے۔

اتوار کے روز سورت شہر کے پاس کانگریس پارٹی کی ایک ریلی سے اپنے خطاب میں مولانا وستانوی نے کہا تھا کہ کسی ظالم کی تعریف کرنا جرم ہے اور انہوں نے کبھی بھی مودی کی تعریف نہیں کی۔

بی جے پی کا کہنا ہے کہ نریدر مودی کے لیے ظالم کا لفظ استعمال کرنا اور پھر مسلمانوں سے کانگریس کے لیے ووٹ مانگنا انتخابی ضابطہ اخلاق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

واضح رہے کہ مولانا غلام محمد وستانوی کا تعلق ریاست گجرات سے ہے۔ دو ہزار گیارہ تک وہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم تھے۔

لیکن گوشتہ برس ذرائع ابلاغ میں ان سے منسوب اس طرح کے بیانات شا‏ئع کیے گئے کہ انہوں نے ریاست گجرات میں ہو رہی اقتصادی ترقی کے لیے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی تعریف کی تھی۔

مولانا وستانوی نے اس سے انکار کیا تھا لیکن اس تنازع کے بعد ہی انہیں مہتمم کے عہدے سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔

ایک بار پھر نریندر مودی کے حوالے سے ہی مولانا وستانوی سرخیوں میں ہیں لیکن اس بار تنازع انہیں ظالم کہنے پر ہوا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔