لداخ: فرقہ وارانہ تشدد، کرفیو جاری

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 25 اکتوبر 2012 ,‭ 14:12 GMT 19:12 PST
شفیع وانی

عین شاہدین نے بتایا کہ ہزاروں بودھ مظاہرین نے مسلم علاقوں میں پتھراؤ کیا

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے لداخ خطے میں اقلیتی مسلم آبادیوں پر بودھ فرقہ کے لوگوں کے تشدد ڈھایا ہے جسکے بعد حکام نے زان اسکار تحصیل میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔

فرقہ وارانہ تشدد کے دوران سرکاری افسر سمیت کئی افراد زخمی ہوگئے۔ ان میں سے محمد شفیع، آمنہ بی بی اور مقامی تحصیلدار صونم نوربو کو سرینگر منتقل کیا گیا۔

لداخ کے زان اسکار علاقے میں جمعرات کو تیسرے دن بھی کرفیو جاری رہا، تاہم دراس تحصیل میں سینکڑوں مسلمان لداخیوں نے حکومت مخالف مظاہرے کئے۔

زخمیوں میں سے محمد شفیع وانی نے بی بی سی کو بتایا کہ بودھ اکثریت والے زان اسکار قصبے میں بائیس افراد پر مشتمل چار خاندانوں نے گزشتہ ماہ اسلام قبول کرلیا تھا۔ ’اس پر اکثریتی بودھ آبادی مشتعل ہوگئی اور انہیں دوبارہ بودھ مذہب اختیار کرنے پر مجبور کرنے لگی۔‘

عینی شاہدین نے بتایا کہ ہزاروں بودھ مظاہرین نے جمعرات کو مسلم آبادیوں پر پتھراؤ کیا اور نو مسلموں کو اپنی تحویل میں لینے کی کوشش کی، لیکن مسلمانوں نے انہیں اپنے گھروں میں چھپا لیا۔

واضح رہے ہمالیائی لداخ خطہ کی سرحد چین سے ملتی ہے اور یہاں صرف دو اضلا ع ، لیہہ اور کرگِل ہیں۔

لیہہ میں بودھ فرقہ کی اکثریت ہے، جبکہ کرگل میں زیادہ تر مسلمان آباد ہیں۔ زانسکار کرگل میں ہی واقع ہے۔ سرینگر سے ساڑھے پانچ سو کلومیٹر دُور زان اسکار میں پچیس ہزار کی آبادی میں صرف ایک ہزار مسلمان ہیں۔

زانسکار کی تازہ صورتحال کے بارے میں وہاں کے شہری حبیب اللہ نے بتایا : ’چند روز قبل ان خاندانوں نے کرگل چھوڑ کر کشمیر آنے کا فیصلہ کیا تو بُھدسٹ ایسوسی ایشن آف زان اسکار نے انہیں روکا۔‘

’اس سے پہلے کہ وہ لوگ ان کو لہولہان کرتے، پھر مسلمانوں نے انہیں اپنے گھروں میں پناہ دے دی۔ لیکن حملہ آور تیز دھار والے ہتھیاروں سے لیس تھے انہوں نے گھروں میں گھس کر حملہ کیا۔‘

ان زیادتیوں کے خلاف بدھ کو کرگل سے قریب دو ہزار مسلمانوں کا جلوس زان اسکار کی طرف بڑھا۔ کئی مقامات پر بودھ اور مسلم مظاہرین کے درمیان تصادم ہوئے۔ تصادموں میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔

زان اسکار کے ایک اور شہری شمیم احمد نے بتایا کہ بودھ مظاہرین نے ایک نومسلم عبدالحکیم کے گھر پر دھاوا بولا اور اس کے گھر کو منہدم کر دیا۔

سری نگر ہجرت کر چکے زان اسکار کے ایک شہری شاہنواز احمد نے بتایا کہ ’زان اسکار کے ہر بودھ شہری کے پاس ٹیلیفون ہے۔ چونکہ وہاں ٹیلیفون کی سہولت سرکاری کمپنی بھارت سنچار کی طرف سے ملتی ہے، مسلمان خاندانوں کو یہ سہولت نہیں دی جاتی۔ اس وقت ہمیں معلوم نہیں کہ ہمارے اقربا کے ساتھ کیا کچھ ہو رہا ہے، کیونکہ وہاں کی انتظامیہ بھی جانبدار ہے۔‘

سری نگر منتقل کیے گئے زخمیوں نے اس واقعہ کی تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ کئی سال سے زان اسکار میں نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے بودھ شہری اسلام کی طرف مائل تھے۔ ’انہیں بُدھ فرقہ میں نیچ سمجھا جاتا تھا اور انہیں شادی بیاہ کے موقع پر آخر میں کھانا دیا جاتا تھا۔‘

متاثرہ مسلمانوں نے بتایا کہ بدھسٹ ایسوسی ایشن کے کارکنون نے نو مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں دو شرطوں پر آسکتے ہیں۔ ’ایک یہ کہ وہ اپنے مکان پر مقامی رسم کے مطابق لہر رہے پرچم ’ترچوک‘ کو نہیں اُتاریں گے، اور دوسری یہ کہ گھر میں رکھے مہاتما بُدھ کی مورتی کو نہیں ہٹائیں گے۔‘

کشمیر کے وزیرداخلہ ناصر اسلم وانی اور ڈویژنل کمیشنر اصغرحسین سامون نے اس سلسلے میں کوئی ردِ عمل دینے سے انکار کر دیا ہے۔

تاہم پولیس ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ علاقہ میں کرفیو کے بعد صورتحال قابو میں ہے۔

درین اثناء شمالی کشمیر سے منتخب رکنِ اسمبلی عبدالرشید شیخ نے کرگل سے ہجرت کر چکے بعض مسلم باشندوں کے ہمراہ سرینگر میں مظاہرہ کیا۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ وہ کرگل میں مسلم باشندوں کو ٹیلی فون سہولت فراہم کریں تاکہ وہ مدد طلب کر سکیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔