فیض آباد:فسادات میں دو ہلاک، حالات کشیدہ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 26 اکتوبر 2012 ,‭ 07:01 GMT 12:01 PST
بھارت میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی ایک فائل فوٹو

پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے

بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر فیض آباد میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہیں۔

علاقے میں جمعرات کی رات سے کرفیو بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔

علاقے میں کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب ہند‎وؤں کے تہوار دسہرہ کے دواران درگا کی مورتیوں کو دریا میں بہانے کے لیے جاتے ہوئے دو گروپوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔

واضح رہے کہ فیض آباد ایودھیا سے صرف چار کلومیٹر کی دوری پر ہے اور ایودھیا وہی مقام ہے جہاں بابری مسجد واقع تھی۔

مورتیوں کے دریا میں بہانے کے دوران فیض آباد کے قریبی علاقے بارہ بنکی میں بھی پرتشدد واقعات پیش آئے جس میں تین افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

حالات کا جائزہ لینے فیض آباد پہنچے اترپردیش پولیس کے سپرٹینڈنٹ اے سی شرما نے بتایا کہ بدھ کو تشدد اس وقت بھڑک اٹھا جب کسی نے یہ افواہ پھیلادی کہ درگا کی ایک مورتی کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

اے سی شرما نے بتایا کہ اس افواہ کے بعد ایک بھیڑ نے پچیس دکانوں کو آگ لگادی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس پورے معاملے کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ یہ سب ’ایک سوچی سمجھی سازش‘ کے تحت انجام دیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ درگا کی مورتی کو دریا میں بہانے کے لیے جو جلوس نکلا تھا اس میں بیشتر لوگوں نے شراب پی رکھی تھی اور انہوں نے نشے کی حالت میں توڑ پھوڑ شروع کردی۔

انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ درگا کی مورتی کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ پولیس کو اس واقعے کی بعض ویڈیو ریکارڈنگز حاصل ہوئی ہیں جن کی تفتیش جاری ہے۔

اترپردیش کے وزیر اعلی اکھیلیش یادو نے فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے

ریاست میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس واقعے کے لیے ریاستی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے وہیں کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ علاقے میں سی آر پی ایف یعنی سینٹر ریزرو فورس تعینات کی جائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔