بھارت کے وزیر خارجہ کرشنا نے استعفی دیا

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 26 اکتوبر 2012 ,‭ 15:46 GMT 20:46 PST
ایس ایم کرشنا

ایس ایم کرشنا کانگریس کے اہم رہنماؤں میں شامل رہے ہیں۔

وزیر اعظم کے دفتر کے حکام نے بتایا ہے کہ بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے جمعہ کو اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

انھوں نے یہ استعفی اتوار کو کابینہ میں ممکنہ تبدیلی سے قبل دیا ہے لیکن ان کے استعفے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

خبروں میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے بنگلور میں کہا کہ وہ ’نوجوانوں کو موقع دینا چاہتے ہیں۔‘ ان کے اس بیان سے ماہرین یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کیا یہ اشارہ راہل گاندھی کی جانب تو نہیں؟

وزیر اعظم کے دفتر نے ان کے استعفی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا استعفی صدر جمہوریہ کو بھیج دیا جائےگا۔

اس کے علاوہ کانگریس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ایس ایم کرشنا کی ان کی ریاست کرناٹک میں خدمات درکار ہوں گی کیونکہ وہ ایسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں جو ریاست میں سیاسی طور پر کافی با اثر ہے۔

اس سے قبل خبروں میں بتایا جا رہا تھا کہ اسی اتوار کو کابینہ کے متوقع ردوبدل کے دوران کرناٹک سے تعلق رکھنے والے کانگریس رہنما ایس ایم کرشنا کے قلمدان میں تبدیلی ہو سکتی ہے یا پھر انھیں وزارت سے محروم بھی کیا جا سکتا ہے۔

اس استعفے کی بظاہر ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ریاست کرناٹک کے احتسابی ادارے ’لوکایکت‘ نے ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات میں تفتیش کا حکم دیا ہے۔ ان پر بنگلور۔میسور ایکسپریس وے کے لیے زمین حاصل کرنے کے سلسلے میں الزام لگایا گیا ہے۔

کرشنا اس سے قبل انیس سو نناوے اور دو ہزار چار کے دوران ریاست کرناٹک کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں۔

ماہرین کے خیال میں وزیر خارجہ کے طور پر ان کی کارکردگی بہت اچھی نہیں تھی۔

یہ بھی خبریں گشت کر رہی ہیں کہ ان کی جگہ کانگریس کے سینیئر رہنما سلمان خورشید، کمل ناتھ، امبیکا سونی، کپل سبل یا آنند شرما لے سکتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔