بھارت، کابینہ میں تبدیلیوں پر شدید نکتہ چینی

آخری وقت اشاعت:  پير 29 اکتوبر 2012 ,‭ 12:54 GMT 17:54 PST

منموہن سنگھ نے کابینہ میں کئی نئے وزرا کو شامل کیا ہے

بھارت میں حزب اختلاف اور حکومت کی بعض اتحادی جماعتوں نے کابینہ کے وزرا کے قلم دانوں میں کی گئی تبدلیوں پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے بعض کارپوریٹ کمپنیوں کے دباؤ میں بعض اہم تبدیلیاں کی ہیں جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے گزشتہ روز کابینہ میں کئی اہم تبدیلیاں کی تھیں جس میں جے پال ریڈی سے پیٹرولیم کی وزارت لےکر انہیں سائنس اور ٹیکنالوجی کا وزیر بنا دیا گيا۔

دوسری جانب سلمان خورشید کو، جنہیں بدعنوانیوں کے سنگین الزامات کا سامنا ہے، وزیر خارجہ مقرر کیا گيا ہے۔

حکومت میں شمولیت کے بغیر، حکومت کی حمایت کرنے والی سماجوادی پارٹی کے سرکردہ رہنما رام پال یادو نے کہا ’سلمان خورشید کو وزیرِ خارجہ بنا کر انہیں ترقی دی گئی ہے۔ اگر کسی وزیر پر بدعنوانی کا الزام ہو تو اسے ہٹانا چاہیے۔ ایک وزیر جو کوئلے کی کرپشن میں ملوث ہیں وہ اب بھی وزیر ہیں‘۔

رام پال یادو نے جے پال ریڈی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’اچھے لوگوں کو ترقی دینی چاہیے تھی‘۔

حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی حکوت پر کڑی تنقید کی ہے۔ پارٹی کے رہنما ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ جے پال ریڈی ایک سینیئر رہنما اور اچھے پارلیمنٹیرین مانے جاتے ہیں۔

"ان کے جیسی شخصیت کو اچانک ہٹا دیا گيا اور سائنس اور ٹیکنالوجی جیسی معمولی وزارت دیدی گئي۔ لوگوں اور میڈیا کا کہنا ہے کہ انہیں صنعت کاروں کے دباؤ میں ہٹایا گيا ہے۔"

وینکیا نائیڈو

’ان کے جیسی شخصیت کو اچانک ہٹا دیا گيا اور سائنس اور ٹیکنالوجی جیسی معمولی وزارت دیدی گئي۔ لوگوں اور میڈیا کا کہنا ہے کہ انہیں صنعت کاروں کے دباؤ میں ہٹایا گيا ہے‘۔

مسٹر نائیڈو کا کہنا تھا کہ یہ کوئي معمولی بات نہیں اور حکومت کو اس بارے میں جواب دینا چاہیے کہ آخر ایسا کیوں کیا گيا۔

بدعنوانی کے خلاف تحریک چلانے والی تنظیم ’انڈیا اگینسٹ کرپشن‘ نے بھی حکومت کے اس فیصلے پر نکتہ چینی کی ہے۔

اروند کیجری وال کا کہنا تھا کہ حکومت کے ان فیصلوں سے یہی پیغام ملتا ہے کہ جو شخص بدعنوان ہے اسے ترقی دی جائے گی اور جو ایمانداری سے کام کرے گا اسے چھوڑا نہیں جائےگا۔

ادھر شام کو جے پال ریڈی نے نئی وزارت کی ذمہ داریاں سنبھالتے وقت پریس کانفرنس سے خطاب میں اس طرح کے تمام الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ یہ سب میڈیا کی خام خیالی ہے۔

اتوار کو کابینہ کا رکن بننے والوں میں سات مرکزی جبکہ پندرہ ریاستی وزرا شامل ہیں جن سے صدر پرنب مکھرجی نے حلف لیا۔

سات مرکزی وزرا میں سے پانچ دنشا پٹیل، ایم ایم پللم راجو، ہریش راوت، اجے ماکن اور اشونی کمار پہلے ریاستی وزیر تھے اور انہیں ترقی دے کر مرکزی وزیر بنا دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔