فیس بُک پر توہینِ اسلام، کشمیر میں کشیدگی

آخری وقت اشاعت:  منگل 30 اکتوبر 2012 ,‭ 07:59 GMT 12:59 PST
فیس بک

کشتواڑ کے ضلع کمشنر نے بتایا کہ حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں

بھارت کےزیرانتظام کشمیر کے کشتواڑ خطے میں انٹرنیٹ پر اسلام مخالف تصویروں کی اشاعت کے بعد حالات کشیدہ ہیں اور پولیس نے تین افراد کوگرفتار کر لیا ہے۔

انٹرنیٹ پر اسلام، قرآن اور کعبے کی توہین آمیز تصاویر شائع ہوتے ہی جنوبی کشمیر کے کشتواڑ ضلعے میں مسلم مظاہرین نے پولیس تھانے پر پتھراؤ کیا جس کے بعد کشتواڑ کے ساتھ ساتھ ملحقہ اضلاع ڈوڈہ اور بھدرواہ میں بھی کشیدگی پھیل گئی۔

اس سے قبل لداخ کے زان اسکار قصبہ میں بودھ آبادی اور مسلم باشندوں کے درمیان تصادم کے بعد کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔

حکام نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بُک پر اسلام مخالف تصاویر شائع کرنے کے الزام میں تین مقامی ہندو شہریوں کو گرفتار کرلیا ہے، تاہم کشت واڑ کی جامع مسجد کے امام نے کشمیر میں ہڑتال کی کال دے دی۔

اس دوران گرفتار کیے گئے ہندو شہریوں کے رشتے داروں نے بھی مظاہرہ کیا ہے ۔ دونوں گروپوں کے درمیان چھاترو تحصیل میں تصادم ہوا لیکن پولیس نے انہیں منتشر کردیا۔

کشتواڑ کے ضلع کمشنر نے بی بی سی کو بتایا کہ انتظامیہ نے حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس کو خصوصی ہدایات دی ہیں۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ ضلع میں کرفیو کا اعلان تو نہیں کیا گیا، لیکن شاہراہوں اور بازاروں میں آمدورفت کو محدود کردیا گیا ہے۔

کشتواڑ کے باشندوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے فیس بُک کے اُس صفحہ کو بلاک کرنے میں تاخیر سے کام لیا جس پر قابل اعتراض مواد شائع ہوا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق فیس بک پر ایک پاکستان مخالف صفحہ بنایا گیا تھا جس پر قرآن اور کعبے کی توہین آمیز تصاویر اپ لوڈ کی گئیں تھیں۔

پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یہ صفحہ کشوری شرما، کیرتی شرما اور بنسی لال نامی مقامی شہریوں نے شائع کیا ہے، چنانچہ انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

ان میں سے بنسی لال اور کشوری شرما محکمۂ تعلیم میں اساتذہ کی حیثیت سے تعینات تھے۔ ضلع کمشنر نے دونوں کو نوکریوں سے برخاست کردیا ہے۔

ضلع انتظامیہ کے ایک افسر نے بتایا کہ تینوں ملزموں کے خلاف چارج شیٹ مکمل ہونے کے بعد انہیں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت دو سال کے لیے قید کیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کشتواڑ میں اکثریت مسلمانوں کی ہے لیکن ہندوؤں کی بھی اچھی خاصی تعداد اس پہاڑی ضلع میں آباد ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔