سیاسی رہنما یرن نائیڈو حادثے میں ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 2 نومبر 2012 ,‭ 07:51 GMT 12:51 PST
يرن نائیڈو

نائیڈو کا شمار آندھرا پردیش کے مقبول ترین رہنماؤں میں ہوتا تھا

بھارتی ریاست آندھرا پردیش کی علاقائی جماعت تیلگو دیشم پارٹی کے سینیئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر کے يرن نائیڈو ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

ان کی عمر چھپن برس تھی۔

پولیس حکام کے مطابق ان کی کار وشاكھاپٹنم سے شري كاكلم جاتے ہوئے جمعہ کی صبح دو بجے ان کی کار تیل کے ایک ٹینکر سے ٹکرا گئی۔

انہیں فوراً شري كاكلم کے ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ يرن نائیڈو کے ساتھ کار میں سفر کرنے والے تیلگو دیشم کے دو دیگر رہنما بھی زخمی ہوئے ہیں۔

يرن نائیڈو کی موت کی اطلاع ملتے ہی پارٹی کے سربراہ چندرا بابو نائیڈو محبوب نگر ضلع میں اپنی پیدل یاترا درمیان میں ہی چھوڑ کر وشاكھاپٹنم کے لیے روانہ ہوگئے جہاں سے وہ شري كاكلم جائیں گے۔

يرن نائیڈو کی آخری رسومات ان کے آبائی گاؤں نمّادا میں جمعہ کی شام ادا کی جائیں گي۔

ان کی ہلاکت پر آندھرا پردیش کے سیاسی حلقوں، خاص طور پر شري كاكلم ضلع میں، غم کا ماحول ہے اور تمام بازار اور کاروبار بند ہیں۔

تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے يرن نائیڈو کی موت پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔

"ریاستی کانگریس کے صدر بوتسا ستيہ نارئینا، نائب وزیر اعلی دامودر راجہ نرسمہا، تیلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے صدر کے چندر شیکھر راؤ اور وائی ایس آر کانگریس کی صدر وجے لکشمی نے اپنے پیغام میں يررن نائیڈو کی موت کو ریاست کے لیے ایک بہت بڑا نقصان قرار دیا ہے۔"

ریاستی کانگریس کے صدر بوتسا ستياناريانا، نائب وزیر اعلی دامودر راجہ نرسمہا، تیلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے صدر کے چندر شیکھر راؤ اور وائی ایس آر کانگریس کی صدر وجے لکشمی نے اپنے پیغام میں يررن نائیڈو کی موت کو ریاست کے لیے ایک بہت بڑا نقصان قرار دیا ہے۔

پیشے سے وکیل يرن نائیڈو 1982 میں سیاست میں آئے جب انہوں نے اینٹي راما راؤ کی تشکیل کردہ تیلگو دیشم پارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔

ان کا تعلق ریاست کے پسماندہ طبقے سے تھا اور وہ آندھرا پردیش کے مقبول ترین رہنماؤں میں سے ایک تھے۔

انہوں نے چار بار مسلسل ریاستی اسمبلی اور پھر لوک سبھا کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اور ریاست اور مرکز دونوں جگہوں پر وزیر رہے تھے۔

1996 میں تیلگو دیشم کی حمایت سے مرکز میں بنی یونائیٹڈ فرنٹ کی حکومت میں انہوں نے ایک اہم کردار ادا کیا تھا اور وہ دیہی ترقی کے وزیر بنائے گئے تھے۔

اس کے بعد تیلگو دیشم نے جب این ڈی اے حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو اس میں بھی يرن نائیڈو کا اہم رول رہا تھا۔ 2009 کے انتخابات میں انہیں پہلی بار شکست کا سامنا کرنا پڑا جب کانگریس کی کرپا رانی نے انہیں ہرایا۔

پارٹی میں ان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں دلی میں تیلگو دیشم کے صدر چندرا بابو نائیڈو کی آنکھ اور کان مانا جاتا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔