’سیاسی نظام کے دروازے عام آدمی کے لیے بند ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 4 نومبر 2012 ,‭ 10:30 GMT 15:30 PST

ریلی سے سونیا، راہول گاندھی اور منوہن سنگھ نے خطاب کیا

بھارت کی حکمراں جماعت کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی اور وزیراعظم منموہن سنگھ نے ایک ریلی میں حکومت کی متنازع اقتصادی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے اپوزیشن پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔

اتوار کو دلی میں منتعدہ ہونے والی اس ریلی سے سونیا گاندھی، راہول گاندھی اور وزیراعظم منوہن سنگھ نے بھی خطاب کیا۔

ان رہنماؤں نے جہاں حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کیا وہیں اپوزیشن جماعتوں کی نکتہ چینی پر شدید تنقید کی۔

کانگریس پارٹی کے جنرل سکریٹری راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ ملک کی سیاسی جماعتوں اور سیاسی نظام کے دروازے عام آدمی کے لیے بند ہیں اور اگر بھارت کو آگے بڑھنا ہے تو اس نظام میں کمزوروں کی آواز سنی جائے۔

"ہمارے سیاسی نظام میں کمی کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے دروازے کمزور، عام آدمی کے لئے بند ہیں۔ جب راشن کارڈ بنانا ہو، بچے کو اسکول میں داخل کرانا ہو، روزگار کی تلاش ہو تو یہ بند نظام عام آدمی کو شکست دے دیتا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے دروازے بھی عام آدمی کے لیے بند پڑے ہیں۔ نوجوان خواب دیکھتا ہے تو ہمارا سسٹم اسے ٹھوکر دے کر توڑ دیتا ہے۔"

راہول گاندھی

ان کا کہنا تھا ’ہمارے سیاسی نظام میں کمی کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے دروازے کمزور، عام آدمی کے لیے بند ہیں۔ جب راشن کارڈ بنانا ہو، بچے کو سکول داخل کرانا ہو، روزگار کی تلاش ہو تو یہ بند نظام عام آدمی کو شکست دے دیتا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے دروازے بھی عام آدمی کے لیے بند پڑے ہیں۔ نوجوان خواب دیکھتا ہے تو ہمارا سسٹم اسے ٹھوکر مار کر توڑ دیتا ہے۔‘

رہول گاندھی کا کہنا تھا ’ کانگریس کو یہ بند دروازے کھولنے ہوں گے تاکہ لاکھوں عام نوجوانوں کی آواز سنی جائے جو ہماری ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ہمیں راستہ دکھاتے ہیں جب تک کانگریس کے دروازے نہیں کھلتے یہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔‘

اپنی اقتصادی پالیسیوں، ڈیزل کی قیمت میں اضافہ اور بدعنوانی کے الزامات پر کانگریس نے جہاں طاقت کا مظاہرہ کیا وہیں عوام سے براہ راست ڈائیلاگ قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔

کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے حزب اختلاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ کانگریس پر بدعنوانی کے الزامات لگا رہے ہیں تو اب عوام کو پتہ چل گیا ہے کہ وہ خود کس طرح سے بدعنوانی کے کیچڑ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بے بنیاد الزام لگانے والے جمہوریت کی بنیاد کو کمزور کرنا چاہتے ہیں لیکن کانگریس ایسا نہیں ہونے دے گی اور نہ ہی آئین سے کسی کو کھیلنے کی اجازت دے گی۔

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کا دعوی تھا کہ بھارت کو جدید بنانے کا کام کانگریس پارٹی نے ہی کیا ہے۔

کانگریس نے بدعنوانی کے الزامات سےگھری سرکار کے دفاع کے لیے ریلی کا انعقاد کیا تھا

اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’کانگریس سیکولرازم پر چلتی ہے اور بھارت کی اکثریت کا احترام کرتی ہے۔ کیا اس میں کوئی ہمارا مقابلہ کر سکتا ہے۔ عوام نے سنہ دو ہزار چار اور دو ہزار نو میں ہم پر اعتماد کیا لیکن کچھ جماعتوں نے اسے اب بھی قبول نہیں کیا اور اسے ہضم نہیں کر پائے۔ وہ جمہوری حکومت کو مسلسل کمزور کر رہے ہیں۔‘

بغیر کسی پارٹی کا نام لیے بدعنوانی پر بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا ’ یہ لوگ جمہوریت کی بنیاد کو کمزور کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ ہم انہیں آئین سے کھیلنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔ اسی پارٹی کے لوگ جو ہم پر بدعنوانی کے الزامات لگا رہے تھے، اب سامنے آ رہا ہے کہ وہ کس طرح پوری طرح سے اسی کے کیچڑ میں ڈوبے پڑے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’میں مانتی ہوں کہ بدعنوانی ایک کینسر ہے جس میں غریب آدمی سب سے زیادہ مرتا ہے۔ ہم نے پہلے بھی اس کا مقابلہ کیا ہے اور اگر کسی کے خلاف الزام ثابت ہوئے تو قانون کے تحت اسے بخشا نہیں جائے گا۔‘

"اقتصادی ترقی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے لیکن ترقی کے لیے ضروری ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے اچھا ماحول بنے۔ دوسرے ممالک کے تجربات سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ خوردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے چھوٹا کاروبار ختم نہیں ہوگا۔"

سونیا نے دعوی کیا کہ کانگریس کا دل اور نیت صاف ہے اور اسی لیے كانگرسيوں کو کسی سے نظریں چرانے کی ضرورت نہیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کے بارے میں غلط باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا ’اقتصادی ترقی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے لیکن ترقی کے لیے ضروری ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے اچھا ماحول بنے۔ دوسرے ممالک کے تجربات سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ خوردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے چھوٹا کاروبار ختم نہیں ہوگا۔‘

حکمراں جماعت کانگریس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ پارٹی مرکزی حکومت کی طرف سے کی گئی نئی اقتصادی اصلاحات کو عوام کو سمجھانے کی کوشش کر رہی ہے اور ساتھ ہی سنہ دو ہزار چودہ کے عام انتخابات سے پہلے ماحول بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔