برطانیہ بھارت کی مالی امداد بند کر دے گا

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 9 نومبر 2012 ,‭ 12:11 GMT 17:11 PST

بھارت کے دیہی علاقوں میں اب بھی سخت غربت پائی جاتی ہے۔

عالمی ترقی کے لیے برطانوی وزیر جسٹن گریننگ نے کہا ہے کہ برطانیہ دو ہزار پندرہ تک بھارت کی مالی امداد بند کر دے گا۔

برطانوی وزیر کے مطابق اب سے دو ہزار پندرہ کے درمیان امداد کو بتدریج کم کیا جائے گا، جس سے برطانیہ کو دو کروڑ پاؤنڈ کی بچت ہو گی۔ اس کے بعد برطانیہ اپنی توجہ تکنیکی معاونت فراہم کرنے پر مرکوز کر دے گا۔

برطانیہ کی طرف سے بھارت کو مالی امداد قدامت پسند ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے تشویش کا باعث تھی اور یہ کہا جا رہا تھا کہ یہ امداد بالآخر بھارت کے خلائی پروگرام کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

ماضی میں برطانوی وزیر بھارت کے دیہی علاقوں میں سخت غربت اور اس کے برطانیہ کے ساتھ نوآبادیانہ تعلق کی بنیاد پر مالی امداد کا دفاع کرتے رہے ہیں۔

گریننگ نے کہا کہ یہ عمل بھارت کی معاشی ترقی کا عکاس ہے۔ بھارت کے وزیرِ خارجہ سلمان خورشید نے کہا ہے ’امداد ماضی اور تجارت مستقبل ہے۔‘

گریننگ ستمبر میں اپنے عہدے پر فائز ہونے کے بعد سے مالی امداد کے تمام بجٹ کا جائزہ لے رہی ہیں، اور انھوں نے اس سلسلے میں اس ہفتے کے آغاز میں بھارت کا دورہ بھی کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ان کے دورے سے بھارت کی ’زبردست ترقی‘ کی تصدیق، اور ان کے اس نقطۂ نظر کی تائید ہوئی ہے براہِ راست امداد کی بجائے تکنیکی معاونت کی جانب منتقل ہونا چاہیے:

"اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا میں بھارت کے بدلتے ہوئے مقام کو تسلیم کیا جائے۔"

عالمی ترقیاتی سیکریٹری جسٹن گریننگ

’پروگرام کا جائزہ لینے کے بعد اور بھارتی حکومت سے مذاکرات کے بعد ہم نے اتفاق کیا ہے کہ اب ہمارے تعلقات کو امداد کی بجائے ہنر کی منتقل پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔‘

’بھارت ترقی کر رہا ہے اور ہمارے دو طرفہ تعلقات کو اکیسویں صدی کے بھارت کا ساتھ دینا ہو گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا میں بھارت کے بدلتے ہوئے مقام کو تسلیم کیا جائے۔‘

اگرچہ تمام موجود مالی امداد کے منصوبے جاری رہیں گے، برطانیہ آئندہ کسی نئے معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا۔

بی بی سی کے سیاسی امور کی نامہ نگار کیرل واکر کہتی ہیں کہ یہ ایک اہم قدم ہے جسے حکومت ان کوششوں کے حصے کے طور پر اٹھا رہی ہے جس کے تحت امدادی بجٹ کو ان ملکوں تک محدود کیا جائے گا جنھیں اس کی زیادہ ضرورت ہے۔

برطانوی حکومت ایک بین الاقوامی وعدہ نبھانے کے لیے سمندر پارملکوں کے لیے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کر رہی ہے، جس کے تحت قومی آمدنی کا صفر اعشاریہ سات فیصد حصہ امداد پر خرچ کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔