آنگ سان سوچی چالیس برس بعد بھارت میں

آخری وقت اشاعت:  منگل 13 نومبر 2012 ,‭ 13:17 GMT 18:17 PST
آنگ سان سوچی

آنگ سان سوچی نے بھارت کے مشہور لیڈی شری رام کالج سے تعلیم حاصل کی ہے

برما میں حزب اختلاف کی لیڈر آنگ سان سوچی تقریبا چالیس برس بعد بھارت کے دورے پر دلی پہنچ گئی ہے۔

آنگ سان سوچی منگل کی صبح دلی پہنچی اور وہ آئندہ چار روز تک یہاں قیام کریں گے۔

اپنے پانچ روزہ دورے کے دوران آنگ سان سوچی بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات کریں گی۔اس کے علاوہ وہ نائب صدر حامد انصاری کے علاوہ لوک سبھا کی سپیکر میرا کمان اور وزیر خارجہ سلمان خورشید کے ساتھ بھی ملاقات کریں گی۔

اپنے اس دورے کے دوران چودہ نومبر یعنی بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے جنم دن کے موقع پر وہ اس برس کا ’نہرو میموریل لیکچر‘ بھی دیں گی۔

جمعہ کو محترمہ سوچی دلی میں وہ اپنے کالج لیڈی شری رام کا دورہ کریں گی جہاں وہ اساتذہ اور طالب علموں کو خطاب کریں گی اور ان کے سوالوں کے جواب دیں گی۔

واضح رہے کہ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں آنگ سان سوچی کی والدہ بھارت میں برما کی سفارت کار کے طور پر دلی میں مقیم تھیں اور اسی دوران آنگ سان سوچی نے دلی یونیورسٹی کے لیڈی شری رام کالج سے تعلیم حاصل کی تھی۔

واضح رہے کہ برما میں انتخابات کے بعد اس برس کی شروعات میں وزیر ا‏عظم منموہن سنگھ نے برما کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے برما کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو بہتر بنانے کی بات پر زور دیا تھا۔

اس دورے کے دوران منموہن سنگھ نے آنگ سان سوچی سے بھی ملاقات کی تھی اور انہیں بھارت کے دورے کے علاوہ اس برس کا نہرو میموریل لیکچر دینے کی دعوت بھی دی تھی۔

آنگ سان سوچی جمہوریت پسند لیڈر ہیں جنہوں نے کئی اپنی زندگی کے کئی اہم برس نظر بندی کی حالت میں گزارے ہیں۔

وہ سنہ انیس سو نوے میں اپنی جماعت نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی کی انتخابات میں تاریخی فتح کے بعد سے اپنے گھر پر نظربند تھی۔ اس فتح کے باوجود ان کی جماعت کو اقتدار میں آنے نہیں دیا گیا تھا۔

آنگ سان سوچی کی پارٹی نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی نے دو ہزار دس کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ ان انتخابات کے نتیجے میں صدر تھین سین کی عوامی حکومت نے فوجی جنتا کی جگہ لی تھی۔

ان کی پارٹی نے اس برس اپریل میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا تھا ۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد ان کی پارٹی برما کی اہم حزب اختلاف کی جماعت ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے شروعاتی دور میں برما میں جمہوریت پسند عناصر کو اپنی حمایت دی تھی انیس سو اٹھاسی میں برما میں فوج کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے بعد متعدد برمی طلباء نے بھارت میں پناہ لی تھی۔

حالانکہ انیس نوے کی دہائی میں بھارت نے برما کی فوجی حکومت کے کوئی مخالفت نہ کرتے ہوئے اپنے رشتے دوستانہ ہی رکھے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت نے برما میں قدرتی وسائل اور صنعت کاری کے مواقع کو دھیان میں رکھتا ہوئے برما کی فوجی حکومت کی کھل کر مخالفت نہیں کی تھی۔

واضح رہے کہ اپریل میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے دوران ایک بھارتی صحافی کے سوال کے جواب میں آنگ سان سوچی نے کہا تھا کہ برما میں جمہوریت کو یقینی بنانے کے لیے بھارت جو کردار ادا کرسکتا تھا وہ اس نے نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔