' پتہ نہیں سوچی مجھے پہچانیں گی یا نہیں؟'

آخری وقت اشاعت:  بدھ 14 نومبر 2012 ,‭ 12:30 GMT 17:30 PST

کالج کے زمانے میں آنگ سان سوچی بائیں سے دوسری

ان کے متعلق کچھ خاص نہیں تھا۔ وہ بالکل ایک عام لڑکیوں کی طرح ہی تھیں۔ صرف میں ہی نہیں، میرے کالج میں کسی کو دور دور تک یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایک دن وہ اتنی بڑی شخصیت بن کر ابھریں گی۔

بھلا کون کہہ سکتا تھا کہ ایک دن ان کا شمار دنیا کے معروف رہنماؤں میں ہوگا یا پھر وہ اپنے ملک میں جمہوریت کے پرچم کو بلند کریں گی۔

مجھے یاد ہے وہ انیس سو چونسٹھ میں چھبیس اگست کا دن تھا۔ لیڈی شری رام کالج میں بطور لیکچرر یہ میرا پہلا دن تھا۔

صبح کے نو بج رہے تھے جب میں بین الاقوامی امور کے موضوع پر پڑھانے کے لیے اپنی کلاس میں پہنچی۔ میں نے حاضری لی۔ مجھے نہیں پتہ تھا کی آنگ ساں سوچی کون تھیں۔ وہ میری کلاس میں موجود ساٹھ لڑکیوں میں سے ایک تھیں۔

"جب انہیں نوبل انعام ملا تو ہمیں بہت فخر محسوس ہوا۔ ہمیں لگا کہ کیا یہ ہماری ' آنگ سان سوچی' ہیں؟ نوبل انعام ملنے کے بعد جب انہیں ان کی غیر موجودگی میں صدارتی محل میں نوازا گیا تو اس پروگرام میں مجھے بھی دعوت دی گئي تھی۔"

خاموش مزاج، ہمیشہ کم بولنے اور سنجیدہ رہنے والی لڑکی سوچی دوسروں سے زیادہ مختلف بھی نہیں تھیں۔ بعد میں اتنا پتہ چلا کہ ان کی والدہ بھارت میں برما کی سفیر ہیں۔ لیکن انہوں نے ایسا ظاہر نہیں ہونے دیا۔

کبھی کبھی ان کی ماں یا تو انہیں لینے آیا کرتی تھیں یا کالج چھوڑنے کے لیے، ان کا مزاج بھی سوچی کی طرح ہی تھا۔ کبھی ان لوگوں نے اپنے آپ کو دوسروں کے اوپر دکھانے کی کوشش نہیں کی۔ چونکہ کالج میں ان کی شخصیت دوسروں سے مختلف نہیں تھی اس لئے ان پر الگ سے کوئی نظر بھی نہیں تھی۔

ہاں، مجھے اتنا اب ضرور یاد آتا ہے کی ان کے ساتھ کی کچھ لڑکیاں بہت شرارتی تھیں۔ وہ مجھ سے الٹے سیدھے سوال کرتی تھیں۔ میں نئی تھی نا۔

شاید وہ دیکھنا چاہتی تھیں کہ مجھے کچھ آتا ہے یا نہیں۔ مگر سوچی نے مجھے کبھی تنگ نہیں کیا۔ ان کی بین الاقوامی معاملات میں دلچسپی ضرور تھی۔

لیکن میں نے ان میں کچھ کرشماتی نہیں دیکھا جس سے لگتا کہ زندگی میں وہ کچھ الگ سا کریں گی یا پھر کبھی یہ بھی نہیں سوچا کہ کبھی یہ دنیا میں اپنی کوئی جگہ بنا لیں گی۔ انہیں دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے انڈیا کی ہی کوئی لڑکی ہو۔

کالج میں سو کی عام لڑکیوں کی طرح ہی تھیں

کالج کے پروگراموں میں حصہ تو وہ لیتی تھیں لیکن مجھے یاد بھی نہیں ہے کہ وہ ان میں ہوتی تھی بھی یا نہیں۔ انہیں سب لوگ ’فہرست‘ کہہ کر بلایا کرتے تھے۔ میں بھی انہیں پكارتي تھی تو کیا پتہ تھا کی ایک دن وہ اپنا نام روشن کریں گی۔

تین سالوں بعد وہ کالج سے چلی گئیں جبکہ میں چالیس سالوں تک پڑھاتی رہی۔ کبھی ان کے بارے میں سوچا نہیں اور ان کا کچھ اتا پتہ بھی نہیں تھا۔

کئی سالوں کے بعد جب اخبارات میں ان کی نظربندی کی خبریں شائع ہونے لگیں، جب ٹی وی چینلوں میں ان کے بارے میں دکھایا جانے لگا تو لوگ مجھ سے پوچھتے تھے کیا یہ وہی لڑکی ہے جس کو تم نے پڑھایا تھا؟

جب خبریں آنے لگیں تو ہمیں تشویش ہوئی کیونکہ وہ ہمارے کالج کی طالبہ تھیں۔ کالج کی پرنسپل اکثر مجھے بلا کر اس پر بات کرتی تھیں۔

جب انہیں نوبل انعام ملا تو ہمیں بہت فخر محسوس ہوا۔ ہمیں لگا کہ کیا یہ ہماری ' آنگ سان سوچی' ہیں؟ نوبل انعام ملنے کے بعد جب انہیں ان کی غیر موجودگی میں صدارتی محل میں نوازا گیا تو اس پروگرام میں مجھے بھی دعوت دی گئي تھی۔

پروفیسر نرملا کھنہّ نے آنگ سان سوچی کو پڑھایا تھا

صدر سے دعوت لے کر لوگ کالج آئے تھے مگر وقت بہت کم تھا کیونکہ پروگرام میں صرف ایک گھنٹہ ہی بچا تھا۔ اب جبکہ وہ چالیس سال بعد پہلی بار اپنے کالج آ رہی ہیں، مجھے پھر سے دعوت موصول ہوئی ہے۔

مگر اس بار میں چلنے پھرنے سے مجبور ہوں۔ چھڑی لے کر چلتی ہوں۔ پیدل چلا نہیں جاتا، مجھے بتایا گیا ہے کہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر کالج میں گاڑی لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

اتنے سالوں کے بعد انہیں دیکھنے کو میرا من تو ضرور کر رہا ہے مگر پتہ نہیں میں جا پاؤنگی یا نہیں۔ پتہ نہیں وہ مجھے پہچانیں گي یا نہیں؟

(بی بی سی کے نامہ نگار سلمان راوی کے ساتھ بات چیت پر مبنی)

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔