آسام میں تازہ تشدد، کرفیو نافذ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 16 نومبر 2012 ,‭ 13:30 GMT 18:30 PST
آسام میں کرفیو

بھارت کی شمال مشرقی ریاست ایک بار پھر تشدد کی لہر میں۔

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام کے كوكراجھار ضلع میں تشدد کے تازہ واقعات کے بعد حکام نے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

حکام نے کہا ہے مقامی بوڈو قبائلیوں اور بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے درمیان ہفتے سے جاری تازہ تشدد میں چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس سے قبل كوكراجھار میں جولائی اور اگست کے دوران تشدد میں تقریباً سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

تشدد کے بعد تقریباً پانچ لاکھ افراد اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے جن میں سے بہت سے لوگ ابھی تک امدادی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

تشدد کے تازہ واقعات ایسے وقت میں رونما ہوئے ہیں جب آسام کی ریاستی حکومت بے گھر ہونے والے لوگوں کو واپس ان کے گھر بھیجنے کی کوشش کر رہی ہے۔

خبروں میں کہا گیا ہے کہ تشدد سے لگ بھگ چالیس ہزار لوگ بے گھر ہو گئے ہیں جن میں زیادہ تر مسلمان ہیں اور یہ لوگ اب بھی اسّی امدادی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

حکام نے کہا ہے کہ كوكراجھار میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور تشدد کے خدشہ والے علاقوں میں فوج کو تعینات کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جمعرات کو تیلي پاڑا گاؤں میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، جبکہ بلاس پاڑا علاقے میں کچھ لوگوں کے حملے میں ایک مسلمان زخمی ہو گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔