تادمِ مرگ قید کی سزا پر احتجاج کا اعلان

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 17 نومبر 2012 ,‭ 13:54 GMT 18:54 PST

یہ سزا مقامی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی خواہش کے احترام میں سنائی گئی ہے: علی گیلانی

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے ایک علیٰحدگی پسند رہنما کو تادم مرگ عمرقید کی سزا پر حریت کانفرنس (گیلانی گروپ) نے احتجاجی مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔

حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے رہنما سید علی گیلانی نے سنیچر کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بھارتی عدلیہ پر نظریاتی سیاست کے اثرات غالب ہیں اور وہ اس کے خلاف عوامی سطح پر تحریک چلائیں گے۔

کشمیر کی مقامی عدالت نے سابق عسکریت پسند اور علیٰحدگی پسند گروپ مسلم لیگ کے رہنما ڈاکٹر قاسم فکتو کو ان کے انتقال تک جیل میں قید رکھنے کا حکم دیا ہے۔

اس فیصلہ سے قبل وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ڈاکٹر فکتو کو عمر بھر جیل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

سری نگر سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق سید علی گیلانی نے اس عدالتی فیصلے کو ’سیاسی فیصلہ‘ قرار دیا اور حکومت ہند پر الزام عائد کیا کہ وہ جان بوجھ پر جموں کشمیر میں ایسے ایسے منصفوں کو تعینات کرتی ہے جو نظریاتی سیاست کے حامل ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سب کشمیریوں سے انتقام لینے کی خاطر کیا جاتا ہے۔ تازہ فیصلہ بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ سزا مقامی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی خواہش کے احترام میں سنائی گئی ہے۔

واضح رہے ڈاکٹر قاسم فکتو پچھلے بیس سال سے قید ہیں۔ انہیں بھارت مخالف عسکری کاروائیوں اور علیحدگی پسندانہ سرگرمیوں کے لیے عمرقید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس سزا کا اعادہ کرتے ہوئے جموں کشمیر ہائی کورٹ نے ایک اور حکم نامے میں کہا ہے کہ ڈاکٹر قاسم کو تب تک رہا نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ زندہ ہیں۔

" ’عمرقید کی سزا سناتے وقت بھارتی سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اس کیس کی سماعت کے دوران جو عرصہ ڈاکٹر قاسم نے جیل میں گزارا وہ سزا میں شامل کیا جائے گا۔ لیکن اس اعلان کا پاس کیے بغیر محض عمر عبداللہ کو خوش کرنے کے لیے یہاں کے منصفوں نے نیا اعلان کیا ہے۔’مجھے لگتا ہے کہ یہ فیصلہ چیف منسٹر کے دفتر سے آیا ہے۔"

آسیہ اندرابی

ڈاکٹر فکتو خاتون علیٰحدگی پسند رہنما آسیہ اندرابی کے خاوند ہیں۔ آسیہ کہتی ہیں کہ ’عمرقید کی سزا سناتے وقت بھارتی سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اس کیس کی سماعت کے دوران جو عرصہ ڈاکٹر قاسم نے جیل میں گزارا وہ سزا میں شامل کیا جائے گا۔ لیکن اس اعلان کا پاس کیے بغیر محض عمر عبداللہ کو خوش کرنے کے لیے یہاں کے منصفوں نے نیا اعلان کیا ہے۔’مجھے لگتا ہے کہ یہ فیصلہ چیف منسٹر کے دفتر سے آیا ہے۔

کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے حکمران اتحاد کی رابطہ کمیٹی کے سربراہ اور سابق وزیر سیف الدین سوز نے عدالتی فیصلہ پر رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی شہری عدالتی فیصلوں کے خلاف اپیل کرسکتا ہے۔ ’اگر سپریم کورٹ بھی فیصلہ سنائے تو شہریوں کو حق ہے کہ وہ صدر کے پاس جائیں‘۔

پریس کانفرنس کے موقع پر سید علی گیلانی اور آسیہ اندرابی نے ایسے اُنیس افراد کی فہرست بھی جاری کی جنہیں مختلف الزامات کے تحت عمرقید کی سزا ہوئی لیکن انہیں چودہ یا بیس سال سے بھی کم مدت کی قید کے بعد رہا کیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ کشمیر کے سینکڑوں قیدیوں نے رہائی کے بعد جیلوں میں غیرانسانی سلوک کی شکایتیں کی ہیں۔ علیٰحدگی پسند گروپ اور انسانی حقوق کے مقامی ادارے کافی عرصہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں مقامی سرکاری مینول پر عمل کیا جائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔