بال ٹھاکرے اور متنازع بیانات

آخری وقت اشاعت:  اتوار 18 نومبر 2012 ,‭ 16:00 GMT 21:00 PST
بال ٹھاکرے

بال ٹھاکرے انیس سو چھبیس میں پیدا ہوئے

سخت گیر ہندو قوم پرست جماعت شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے تقریباً چھیالیس سال تک عوامی زندگی میں رہے اور متنازع بیانات کے ساتھ ان کا چولی دامن کا ساتھ رہا۔

انہوں نے نہ تو کبھی کوئی انتخاب لڑا، نہ ہی کوئی سیاسی عہدہ ہی قبول کیا، پھر بھی بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔

تاریخی بابری مسجد کے انہدام کے بعد انھوں نے کہا تھا ’ہمارے لوگوں نے اسے گرایا ہے اور مجھے اس پر فخر ہے۔‘

وہ تشدد کے استعمال کے حق میں بھی تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’میں سیاست میں تشدد اور طاقت کا استعمال کروں گا کیونکہ کمیونسٹوں کو یہی زبان سمجھ آتی ہے اور کچھ لوگوں کو تشدد کا ڈر دکھانا چاہیے تب ہی وہ سبق سیکھیں گے۔‘

ان کے کچھ متنازع بیان حسبِ ذیل ہیں:

سچن تندولکر پر چوکا

سچن تندولکر

یہ نومبر دوہزار نو کی بات ہے جب سچن تندولکر نے کہا تھا کہ ممبئی تمام ہندوستانیوں کا ہے۔ سچن نے یہ بھی کہا تھا کہ مجھے اس بات پر انتہائی فخر ہے کہ میں مہاراشٹر کا رہنے والا ہوں، لیکن میں پہلے ایک ہندوستانی ہوں۔

اس بیان پر بال ٹھاکرے نے سچن کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔

بال ٹھاکرے نے کہا تھا کہ جب آپ چوکا یا چھکا لگاتے ہیں تو لوگ آپ کی تعریف کرتے ہیں، لیکن اگر آپ مراٹھیوں کے حقوق کی خلاف ورزی کریں گے یا ان پر تبصرہ کریں گے تو اس سے مراٹھی مانس کو ٹھیس پہنچے گی اور وہ اسے کبھی برداشت نہیں کریں گے۔

اس وقت بال ٹھاکرے نے سچن تندولکر کو کرکٹ کے بہانے سیاست نہ کرنے کی نصیحت بھی دی تھی۔ بہرحال تندولکر اب بھارت کے ایوان بالا کے نامزد رکن ہیں۔

ثانیہ مرزا پر چوٹ

ثانیہ مرزا شعیب ملک

اس کے بعد اپریل دوہزار دس کو بال ٹھاکرے نے بھارت کی سٹار ٹینس کھلاڑی ثانیہ مرزا کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اس کی وجہ پاکستانی کرکٹ کھلاڑی شعیب ملک کے ساتھ ثانیہ کی ہونے والی شادی تھی۔

بال ٹھاکرے نے ایک بار پھر اپنے جانے پہچانے انداز میں کہا تھا کہ ثانیہ اگر بھارت کے لیے کھیلنا چاہتی ہیں تو انہیں کسی بھارتی کو ہی اپنا رفیق حیات منتخب کرنا ہوگا اور اگر ثانیہ مرزا نے شعیب سے شادی کی تو وہ بھارتی نہیں رہ جائیں گی، ان کا دل اگر ہندوستانی ہوتا تو کسی پاکستانی کے لیے نہیں دھڑکتا۔

بال ٹھاکرے نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ثانیہ اپنے کھیل کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے تنگ کپڑوں، فیشن اور محبت کے قصوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔

ممبئی میں پرمٹ سسٹم

ممبئی میں سناٹا

بھارت کی دوسری ریاستوں سے ممبئی آکر بسنے والوں کے خلاف ہی بال ٹھاکرے نے اپنی سیاست چمکائی تھی۔ وہ ان کے خلاف آخر تک انتہائی سخت الفاظ کا استعمال کرتے رہے۔

مارچ دو ہزار دس میں مہاراشٹر کے گورنر کے شنكرنارائن نے کہا تھا کہ ممبئی میں کوئی بھی رہ سکتا ہے۔

اس پر بال ٹھاکرے نے شیوسینا کے ترجمان اخبار ’سامنا‘ میں لکھا تھا کہ ممبئی دھرم شالہ بن گئی ہے، بیرونی لوگوں کو آنے سے روکنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ پرمٹ سسٹم نافذ کر دیا جائے۔

شاہ رخ کو نشان امتیاز پاکستان

شاہ رخ

پاکستانی کرکٹ کھلاڑیوں کو انڈین پریمیئر لیگ یعنی آئي پی ایل میں شامل کرنے کی بات چلی تو اداکار اور کولکاتہ نائٹ رائڈرز کے مشترک مالک شاہ رخ خان نے اس بات کی حمایت کی۔

اس سے مشتعل ہو کر بال ٹھاکرے نے شاہ رخ خان کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

بال ٹھاکرے نے اس وقت کہا تھا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی وکالت کے لیے شاہ رخ خان کو ’نشان پاکستان‘ سے نوازا جانا چاہئے۔

واضح رہے کہ بال ٹھاکرے پاکستان کے ساتھ بھارت کے میچ مخالف رہے ہیں ان کی پارٹی نے آئندہ ماہ ہونے والے بھارت پاکستان سیریز کی بھی مخالفت کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔