فیس بک پر سوال کرنا مہنگا پڑا

آخری وقت اشاعت:  پير 19 نومبر 2012 ,‭ 11:01 GMT 16:01 PST
بال ٹھاکرے

بال ٹھاکرے کے سنیچر کے روز انتقال کے بعد سے ممبئی بند رہا

ممبئی میں سخت گیر ہندو قوم پرست جماعت شیوسینا کے بانی بال ٹھاکرے کی موت کے بعد شہر میں زندگی مفلوج ہونے پر فیس بک پر تبصرہ کرنا ایک خاتون کو مہنگا پڑا۔

اطلاعات کے مطابق متعلقہ خاتون کے خلاف پولس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور کچھ ذرائع کا کہنا تھا کہ اس خاتون کو تفتیش کے لیے حراست میں بھی لے لیا گیا ہے۔

تاہم ممبئی میں ایک پولیس افسر نے اس بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ خاتون کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے بلکہ صرف پوچھ گچھ کے لیے پولیس سٹیشن بلایا گیا تھا۔

بال ٹھاکرے کی موت کے بعد بھارت کا تجارتی مرکز ممبئی ہفتے اور اتوار کو تقریباً مکمل طور پر بند رہا تھا اور سوشل میڈیا پر اس بارے میں طرح طرح کے تبصرے کیے جا رہے تھے۔

اس خاتون نے اپنے فیس بک صفحے پر لکھا تھا کہ ٹھاکرے جیسے لوگ ہر روز پیدا ہوتے اور مرتے ہیں اور اس وجہ سے ممبئی کا بند ہونا کہاں تک مناسب ہے؟

"بال ٹھاکرے کی موت کے بعد ممبئی ہفتے اور اتوار کو تقریباً مکمل طور پر بند رہا تھا اور سوشل میڈیا پر اس بارے میں طرح طرح کے تبصرے کیے جا رہے تھے"

اس تبصرہ کو لائک یعنی پسند کرنے والی ایک دوسری خاتون کو بھی پولیس نے پوچھ گچھ کے لیے بلایا ہے۔

یہ معاملہ ممبئی سے متصل ضلع تھانے میں پالگھر کا ہے۔ اس خاتون کے خلاف دفعہ دو سو پچانوے-اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ دفعہ زیادہ تر غلط منشا کے تحت مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والوں کے خلاف لگایا جاتا ہے۔

پولیس نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے کہ اس خاتون کے ایک چچا کے کلینک کو اتوار کی رات نقصان بھی پہنچایا گیا تھا۔

تاہم پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ کلینک پر حملہ کرنے والے لوگ کس سیاسی پارٹی سے تعلق رکتھے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔