قصاب کے بعد اب کون؟

آخری وقت اشاعت:  بدھ 21 نومبر 2012 ,‭ 13:50 GMT 18:50 PST
افضل گرو

اب مختلف حلقے افضل گرو کو پھانسی کا مطالبہ کر رہے ہیں

بھارت کےصنعتی شہر ممبئی پر حملوں کے مجرم اجمل قصاب کو يروڈا جیل میں پھانسی دی گئی لیکن کئی مزید افراد ابھی بھی رحم کی اپیل پر فیصلے کے منتظر ہیں۔

پانچ نومبر کو بھارتی صدر نے قصاب کی رحم کی درخواست مسترد کی تھی لیکن صدر پرنب مکھرجی کے پاس اس وقت ایسے سولہ افراد کی موت کی سزا سے متعلق رحم کی اپیلیں پڑی ہیں جن پر فیصلہ ہونا باقی ہے۔

جن افراد کی اپیلیں التواء میں ہیں ان میں محمد افضل گرو کی درخواست بھی شامل ہے۔ افضل گرو کو تیرہ دسمبر 2001 کو بھارت کی پارلیمنٹ پر حملے کی سازش میں ملوث ہونے پر پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے 2005 میں افضل گرو کو پھانسی کی سزا کو بحال رکھا تھا۔

گزشتہ برس اگست میں وزارت داخلہ نے ان کی رحم کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اپنی سفارشات صدر کو بھیج دی تھیں۔

سونیا اور راجیوجائیداد کے لیے اپنے ہی خاندان کے آٹھ افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے کے مجرم ہیں۔ سپریم کورٹ نے ان دونوں کی بھی پھانسی کی سزا پر دو ہزار سات میں مہر لگا دی تھی۔ وزارت داخلہ ان کی بھی رحم کی اپیل کو مسترد کر چکی ہے اور اپنی سفارشات صدر کے پاس بھیج دی ہیں۔

اجمل قصاب

بھارت کے صدر جمہوریہ نے اجمل قصاب کی پھانسی کی سزا ملتوی کرنے کی اپیل مسترد کردی تھی

گرميت سنگھ بھی اپنے ہی خاندان کے تیرہ افراد کے قتل کے مجرم ہیں۔ انہیں 2005 میں سپریم کورٹ نے مجرم قرار دیتے ہوئے پھاسي کی سزا سنائی تھی۔ دو ہزار نو میں وزارت داخلہ نے ان کی رحم کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

دھرم پال۔۔۔ بھارتی صدر کے پاس اس وقت رحم کی جو سب سے پرانی اپیل پڑی ہے وہ دھرم پال کی ہے ۔ انہوں نے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کو اس وقت قتل کیا تھا جب وہ جنسی زیادتی کے مقدمے میں ضمانت پر جیل سے رہا ہو کر آئے تھے۔

سائمن، گنڑاكاش، مداے اور بلواندر۔۔۔۔ ان چار افراد کو لینڈ مائن دھماکہ کرکے کرناٹک کے بائیس پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا مجرم پایا گیا تھا۔

دو ہزار چار میں سپریم کورٹ نے انہیں پھانسی کی سزا سنائي تھی اور مرکزی وزارت داخلہ نے ان کی رحم کی درخواست پر گزشتہ سال مئی کے مہینے میں فیصلہ کر کے صدر کو اپنی سفارشات بھیجی تھیں۔

سریش اور رام جی پراپرٹی کے معاملے میں اپنے پانچ رشتہ داروں کو قتل کرنے کے مجرم ہیں۔ یہ افراد 2001 میں قصور وار پائے گئے تھے۔گزشتہ سال فروری میں وزارت داخلہ نے ان کی رحم کی درخواست صدر کو بھیجی تھی۔

"بعص قانونی ماہرین کہتے ہیں انہیں صرف اس بات پر حیرت ہے کہ جو لوگ پہلے سے قطار میں تھے ان پر فیصلہ نا کرکے اجمل قصاب کے معاملے میں اتنی تیزی کیوں دکھائی گئی۔"

پروین کمار ایک خاندان کے چار افراد کے قتل کے مجرم ہیں۔ انہیں سپریم کورٹ نے 2003 میں قصوروار قرار دیا تھا اورگزشتہ سال وزارت داخلہ نے ان کی رحم کی درخواست مسترد کر کے صدر کو بھیجی تھی۔

سيبننہ نگپپا ناٹكر نے اپنی بیوی اور بیٹی کا قتل کیا تھا اور 2004 میں سپریم کورٹ نے انہیں قصوروار ٹھہرایا تھا۔گزشتہ سال ستمبر سے ان کی اپیل کی درخواست راشٹرپتی بھون میں پڑی ہے۔

ظفر علی پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی سمیت پانچ بیٹیوں کا قتل کیا تھا۔ وہ 2004 میں مجرم قرار دیئے گئے اور ان کی بھی رحم کی درخواست کی فائل صدر کے پاس نومبر 2011 میں بھیجی گئی تھی۔

سندر سنگھ بھی پانچ افراد کے قتل کے مجرم ہیں۔ انہیں دو ہزار دس میں عدالت نے قصور وار ٹھہرایا تھا۔ ان کی رحم کی درخواست اس سال فروری میں وزارت داخلہ نے مسترد کر کے صدر کے پاس بھیجی تھی۔

اتبير نے اپنے سوتیلے بھائی، ماں اور بہن کا قتل کیا تھا اور انہیں بھی موت کی سزا سنائي گئی تھی۔گزشتہ پانچ ماہ سے ہی ان کی رحم کی درخواست بھی صدر کے پاس پڑی ہے۔

اس کے علاوہ پانچ لوگوں کی رحم کی درخواست صدر مسترد کر چکے ہیں۔ ان میں دوندر پال سنگھ بھلّر سب سے اہم ہیں جنہیں 1993 میں ایک کار بم دھماکے میں نو افراد کی ہلاکت اور کئی لوگوں کو زخمی کرنے کا مجرم پایا گیا تھا۔ بھلّر خالصتان شدت پسند تنظیم سے وابستہ تھے۔

سپریم کورٹ نے 2002 میں بھلّر کی پھانسی کی سزا پر مہر لگائی تھی اور گزشتہ برس صدر نے ان کی معافی کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

ٹی ستھیراجا عرف ساتن، شري ہرن عرف مرگن اور جی پےراؤلن عرف اروو کی معافی کی درخواست صدر مسترد کر چکے ہیں۔ انہیں سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کی سازش میں ملوث پایا گیا تھا۔

مہندر ناتھ داس عرف گووند داس کی رحم کی اپیل 2011 میں خارج کی جا چگی ہے۔ انہوں نے آسام میں گوہاٹی کے فینسی بازار میں ہری كانت داس کا سر کاٹ ڈالا تھا اور کٹے سر کو لے کر ہی پولیس کے سامنے خود کو سپرد کر دیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔