قصاب کی پھانسی: بھارت میں خوشی، پاکستان نسبتاً خاموش

آخری وقت اشاعت:  بدھ 21 نومبر 2012 ,‭ 10:58 GMT 15:58 PST
ٹوئٹر

بھارت میں اجمل قصاب کی پھانسی پر شدید ردعمل آیا ہے

بدھ کی صبح اجمل قصاب کو پھانسی دیے جانے پر بھارت میں سماجی رابطوں کی سائٹس اور ذرائعِ ابلاغ میں بھرپور ردعمل سامنے آیا ہے لیکن پاکستان میں نسبتاً خاموشی ہے۔

اجمل قصاب کو بدھ کی صبح ساڑھے سات بجے پھانسی دی گئی ہے۔ تب سے لے کر اب ٹوئٹر، فیس بک اور ذرائعِ ابلاغ میں بھاری تعداد میں تبصرے جاری ہیں۔

دلی میں بی بی سی کی مونیٹرنگ ٹیم کے مطابق بھارت کی بیشتر نامور شخصیات، صحافیوں اور عام عوام نے حکومت کی اس بات کی تعریف کی ہے کہ ’سیاسی طور پر حکومت نے اس عمل کو بہت ہی احتیاط اور حساس طریقے سے پورا کیا ہے۔‘

بھارت کے نامور صحافی راجدیپ سردیسائی نے ٹوئٹر پر لکھا ہے ’سب کو صبح کا سلام۔ اجمل قصاب کو پھانسی دے دی گئی۔‘

بھارت کے زیر انتظام کشیمر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا ہے ’ممبئی کی حکومت اور مرکزي حکومت نے بے حد سمجھداری سے اس عمل کو پورا کیا ہے۔ اور یہ ثابت کردیا ہے کہ اگر ہم چاہیں تو راز کو راز رکھ سکتے ہیں۔‘

فلم اداکارہ سلینا جیٹھلی نے لکھا ہے ’بہت خوب بھارتی حکومت! لیکن افسوس کہ جس سوچ اور نظریے نے قصاب کو شدت پسند بنایا وہ آج بھی زندہ ہے۔‘

وہیں گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے ٹوئٹر پرسوال کیا کہ ’پارلیمان پر حملہ کرنے کے مجرم کو پھانسی کب دی جائے گی؟‘

بالی وڈ کے مشہور ہدایت کار مہیش بھٹ کا کہنا ہے ’شدت پسندوں کے ساتھ رحم کا سلوک کرنے کا مطلب ہے کہ لوگوں کا ملک کی عدلیہ پر اعتماد ختم ہوجائے گا۔‘

بھارتی نیوز چینلز پر فی الحال قصاب کی پھانسی کی خبر سب سے بڑی خبر ہے۔ ٹی وی پر دکھائی جانے والی خبروں میں ان خاندانوں کو دکھایا جا رہا ہے جنھوں نے ممبئی حملوں میں اپنے پیاروں کو کھو دیا تھا۔یہ افراد قصاب کی پھانسی کی خبر سن کر بہت خوش ہیں۔

ادھر پاکستان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹس اور ذرائعِ ابلاغ میں قصاب کی پھانسی کے بارے میں زیادہ تبصرے نہیں کیے جا رہے۔

پاکستانی صحافی حامد میر نے ٹوئٹر پر لکھا ہے ’بھارت نے اجمل کو کس طرح سے پھانسی پر لٹکایا ہے۔ قصاب اور نیتن یاہو میں کیا فرق ہے۔‘

بینا سرور نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’سربجیت اور قصاب میں موازنہ کرنا بند کریں۔ سربجیت بیس سال جیل میں گزار چکا ہے اور اس کی شناخت کے بارے میں شک ہے اور اس کے معاملے کے عینی شاہد نے کہا ہے کہ سربجیت نے غلط شواہد دیے ہیں۔‘

پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا نے بھی اس خبر کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور اکثر چینلوں میں چند ٹِکر چلا کر خاموشی چھا گئی۔ اس کے مقابلے پر بھارتی چینلوں پر مسلسل قصاب اور ممبئی میں ہونے والے حملوں کے بارے میں پروگرام دکھائے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ قصاب کی پھانسی کی خبر بدھ کی صبح آئی تھی۔ اسے پونے کے جیل میں صبح سات بجے پھانسی دے کر وہیں دفنا دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔