قصاب نے پھانسی سے پہلے کیا کیا اور کیا کہا؟

آخری وقت اشاعت:  بدھ 21 نومبر 2012 ,‭ 09:40 GMT 14:40 PST
اجمل قصاب

بھارت کے صدر جمہوریہ نے اجمل قصاب کی پھانسی کی سزا ملتوی کرنے کی اپیل مسترد کردی تھی

پونے میں یرواڈا جیل کے حکام کا کہنا ہے کہ پھانسی پر لے جانے سے پہلے اجمل امیر قصاب کے چہرے پر گھبراہٹ تو تھی لیکن وہ بہت خاموش تھے۔

انہیں بدھ کی صبح ساڑھے سات بجے پونے کی یروڈا جیل میں پھانسی دیدی گئي۔

بھارتی خبر رساں ادارہ پریس ٹرسٹ آ‌ف انڈیا کے مطابق پھانسی سے پہلے اجمل قصاب نے نماز ادا کی۔

خبر رساں ادارے مطابق جیل کے ایک افسر نے بتایا ہے’اجمل قصاب کی باڈی لینگویج سے ہمیں یہ معلوم پڑا کہ وہ گھبرا رہے تھے لیکن پھانسی کے لیے جیل سے باہر لے جانے تک وہ پوری طرح خاموش رہے۔‘

افسر کے مطابق اجمل نے پہلے نماز پڑھی اور پھر پوچھا کہ ان کی پھانسی سے متعلق ان کے اہل خانہ کو آگاہ کیا گيا ہے یا نہیں، اس پر جیل کے حکام نے انہیں بتایا کہ انہیں آگاہ کر دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے مہاراشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے کہا تھا کہ پھانسی سے پہلے قصاب نے کسی خواہش یا وصیت کا اظہار نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ان سے کسی آخری خواہش یا وصیت کے بارے میں پوچھا گيا تو انہوں نے صرف یہ کہا کہ پاکستان میں ان کی ماں کو اس بارے میں مطلع کر دیا جائے۔

بھارتی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ ان کی پھانسی سے متعلق پاکستان کو آگاہ کر دیا گیا تھا اور جو پتا اجمل قصاب نے فراہم کیا تھا اس پر بھی پھانسی کے متعلق معلومات بھیجی گئی تھیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔